خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 567 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 567

567 $2003 خطبات مسرور ساتھ چلے جارہے تھے۔آپ کا ایک مردہ خچر کے پاس سے گزر ہوا جس کا پیٹ پھول چکا تھا ( مرے ہونے کی وجہ سے پیٹ پھول جاتا ہے، کافی دیر سے پڑا تھا )۔آپ نے کہا بخدا تم میں سے اگر کوئی یہ مردار پیٹ بھر کر کھالے تو یہ بہتر ہے کہ وہ کسی مسلمان کا گوشت کھائے۔( یعنی غیبت کرے یا چغلی کرے تو بعض نازک طبائع ہوتی ہیں۔اس طرح مرے ہوئے جانور کو، جس کا پیٹ پھول چکا ہو، اس میں سے سخت بدبو آ رہی ہو تعفن پیدا ہورہا ہو، اس کو بعض طبیعتیں دیکھ بھی نہیں سکتیں ، کجا یہ کہ اس کا گوشت کھایا جائے۔لیکن ایسی ہی بظاہر حساس طبیعتیں جو مردہ جانور کو تو نہیں دیکھ سکتیں ، اس کی بدبو بھی برداشت نہیں کر سکتیں، قریب سے گزر بھی نہیں سکتیں، لیکن مجلسوں میں بیٹھ کر غیبت اور چغلیاں اس طرح کر رہے ہوتے ہیں جیسے کوئی بات ہی نہیں۔تو یہ بڑے خوف کا مقام ہے، ہر ایک کو اپنا محاسبہ کرتے رہنا چاہئے۔اب یہ بھی اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ وہ اپنے بندوں پر کتنا مہربان ہے، کہ فرمایا اگر اس قسم کی باتیں پہلے کر بھی چکے ہو، تو استغفار کرو، اللہ کا تقویٰ اختیار کرو، اپنے رویے درست کرو، میں یقیناً بہت رحم کرنے والا، تو بہ قبول کرنے والا ہوں۔مجھ سے بخشش مانگو تو میں رحم کر تے ہوئے تمہاری طرف متوجہ ہوں گا۔بعض لوگ غیبت اور چغلی کی گہرائی کا علم نہیں رکھتے۔ان کو سمجھ نہیں آتی کہ کیا بات چغلی ہے، غیبت ہے۔بعض اوقات سمجھ نہیں رہے ہوتے کہ یہ چغلی بھی ہے کہ نہیں۔بعض دفعہ بعض باتوں کو مذاق سمجھا جارہا ہوتا ہے لیکن وہ چغلی اور غیبت کے زمرے میں آتی ہے اس لئے اس کو میں تھوڑی سی مزید وضاحت سے کھولتا ہوں۔علامہ آلوی ﴿وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضاء کی تفسیر کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں:۔اس کا مطلب یہ ہے کہ تم میں سے کوئی شخص دوسرے افراد سے ایسی بات نہ کرے جو وہ اپنے بارہ میں اپنی غیر موجودگی میں کئے جانے کو نا پسند کرتا ہے۔۔۔۔اور جو چیز وہ ناپسند کرے اس سے مراد عمومی طور پر یہ ہوگی کہ وہ باتیں اس کے دین کے بارہ میں ، یا اس کی دنیا کے بارہ میں کی جائیں، اس کی دنیاوی حالت کے بارہ میں کی جائیں، اس کے مال یعنی امیری غریبی کے بارہ میں کی جائیں۔یا اس کی شکل وصورت کے بارہ میں کی جائیں، یا اس کے اخلاق کے بارہ میں کی جائیں، یا اس کی اولاد کے بارہ میں کی جائیں ، یا اس کی بیوی کے بارہ میں کی جائیں، یا اس کے غلاموں اور خادموں کے بارہ میں کی جائیں، یا اس کے لباس کے بارہ میں اور اس کے متعلقات کے بارہ میں