خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 568
$2003 568 خطبات مسرور ہوں تو یہ ساری باتیں ایسی ہیں کہ اگر کسی کے پیچھے کی جائیں تو وہ نا پسند کرتا ہے۔اب دیکھ لیں کہ اکثر ایسی مجلسوں کا محور یہی باتیں ہوتی ہیں، دوسرے کے بارہ میں تو کر رہے ہوتے ہیں لیکن اگر اپنے بارہ میں کی جائیں تو ناپسند کرتے ہیں اور پھر جب باتیں ہو رہی ہوتی ہیں تو ایسے بے لاگ تبصرے ہورہے ہوتے ہیں جیسا کہ میں نے کہا کہ اگر ان کے اپنے بارہ میں یہ پتہ لگ جائے کہ فلاں فلاں مجلس میں ان کے بارہ میں بھی ایسی باتیں ہوئی ہیں تو بُرا لگتا ہے، برداشت نہیں کر سکتے ، فور آمر نے مارنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔اس لئے جو باتیں وہ اپنے لئے پسند نہیں کرتے ، اپنے بھائی کے لئے بھی پسند نہ کریں۔جن باتوں کا ذکر اپنے لئے مناسب نہیں سمجھتے کہ مجلسوں میں ہوں ، اپنے بھائی کے لئے بھی وہی پسند کریں کہ اس کا ذکر بھی اس طرح مجلسوں میں نہ ہو۔حضرت خلیفہ اسیح اول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: نصیحت کے طور پر کہتا ہوں کہ اکثر سوء ظنیوں سے بچو ( بدظنیوں سے بچو )۔اس سے سخت سخن چینی اور عیب جوئی کی عادت بڑھتی ہے۔( جب بدظنیاں کرو گے تو عیب تلاش کرنے کی عادت بھی پڑے گی )۔اسی واسطے اللہ کریم فرماتا ہے ﴿وَلَا تَجَسَّسُوا تجسس نہ کرو تجسس کی عادت بدظنی سے پیدا ہوتی ہے۔جب انسان کسی کی نسبت سوءظن کرتا ہے یا بدظنی کرتا ہے تو اس کی وجہ سے ایک خراب رائے قائم کر لیتا ہے تو پھر کوشش کرتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح اس کے کچھ عیب بھی مجھے مل جائیں ، اس کی کچھ برائیاں بھی نظر آجائیں۔اور پھر عیب جوئی کی کوشش کرتا اور اسی جستجو میں مستغرق رہتا ہے۔(یعنی کہ اتنا ڈوب جاتا ہے عیب کی تلاش میں کہ جس طرح کوئی بہت اہم کام کر رہا ہے )۔اور یہ خیال کر کے کہ اس کی نسبت میں نے جو یہ خیال ظاہر کیا ہے اگر کوئی پوچھے تو پھر اس کو کیا جواب دوں گا۔( یعنی یہ سوچتا رہتا ہے کہ میں ایک دفعہ اس کے بارہ میں ایک رائے قائم کر چکا ہوں اگر کوئی اس کی دلیل مانگے تو تمہارے پاس اس کی برائی کا ثبوت کیا ہے تو جواب کیا دوں گا۔تو اس جواب کو تلاش کرنے کے لئے مستقل اس جستجو میں رہتا ہے، اس کوشش میں رہتا ہے کہ اس کی مزید برائیاں نظر آئیں۔تو فرماتے ہیں کہ اپنی بدظنی کو پورا کرنے کے لئے تجسس کرتا ہے، پھر تجس سے غیبت پیدا ہوتی ہے جیسے اللہ کریم نے فرمایا کہ وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُمْ بَعْضًا۔غرض خوب یا در کھو سوء ظن سے تجسس اور تجسس سے غیبت کی عادت شروع ہوتی ہے۔۔۔۔اگر ایک شخص روزے بھی