خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 563 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 563

$2003 563 خطبات مسرور طرح پر صدیق کمالات صداقت کا جذب کرنے والا ہوتا ہے۔صدیق کے کمال کے حصول کا فلسفہ یہ ہے کہ جب وہ اپنی کمزوری اور ناداری کو دیکھ کر اپنی طاقت اور حیثیت کے موافق اياك نَعْبُدُ کہتا ہے اور صدق اختیار کرتا اور جھوٹ کو ترک کر دیتا ہے اور ہر قسم کے رجس اور پلیدی سے جو جھوٹ کے ساتھ وابستہ ہوتی ہے دور بھاگتا ہے اور عہد کر لیتا ہے کہ کبھی جھوٹ نہ بولوں گا، جھوٹی گواہی نہ دوں گا اور نہ جذ بہ نفسانی کے رنگ میں کوئی جھوٹا کلام کروں گا، نہ لغوطور پر، نہ کسب خیر اور دفع شر کے لئے۔بعضوں کا خیال ہے کہ مصلحت بعض موقعوں پر جھوٹ بولنا جائز ہے۔فلاں غلط بات کرنے سے فلاں بہتری پیدا ہوسکتی ہے تعلقات میں یا رفع شر میں کر رہا ہوں غلط کام کر کے۔یا ایسی صورت حال پیدا ہوگئی تھی جہاں جھوٹ بولنا جائز ہو گیا تھا۔آپ نے فرمایا کہ کسی صورت میں بھی جھوٹ بولنا جائز نہیں ہے۔فرماتے ہیں یعنی یہ عہد کرے کہ کسی رنگ اور حالت میں بھی جھوٹ کو اختیار نہیں کروں گا۔اور جب اس حد تک وعدہ کرتا ہے تو گویا اِيَّاكَ نَعْبُدُ پر ایک خاص عمل کرتا ہے اور اس کا وہ عمل اعلیٰ درجہ کی عبادت ہوتی ہے۔ايَّاكَ نَعْبُدُ سے آگے إِيَّاكَ نَسْتَعِيْن ہے خواہ یہ اس کے منہ سے نکلے یا نہ نکلے لیکن اللہ تعالیٰ جو مبدء الفیوض ہے اور صدق اور راستی کا سرچشمہ ہے“ (جہاں سے اللہ تعالیٰ کی معرفت اور فیض نکلتے ہیں اور سچائی اور راستی کا دکھانے والا ہے ) اللہ تعالیٰ اس کو ضرور مدد دے گا اور صداقت کے اعلیٰ اصول اور حقائق اس پر کھول دے گا۔مثلاً جیسے کہ یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جو تا جر اچھے اصولوں پر چلتا ہے اور راستبازی اور دیانتداری کو ہاتھ سے نہیں دیتا اگر وہ ایک پیسے سے بھی تجارت کرے تو اللہ تعالیٰ اسے ایک پیسے کے بدلے لاکھوں روپے دے دیتا ہے۔اسی طرح جب عام طور پر ایک انسان راستی اور راستبازی سے محبت کرتا ہے اور صدق کو اپنا شعار بنالیتا ہے تو وہی راستی اس عظیم الشان صدق کو کھینچ لاتی ہے جو خدا تعالیٰ کو دکھا دیتی ہے۔صدق مجسم قرآن شریف ہے اور پیکرِ صدق آنحضرت ﷺ کی مبارک ذات ہے اور ایسا ہی اللہ تعالیٰ کے مامور ومرسل حق اور صدق ہوتے ہیں۔پس جب وہ اس صدق تک پہنچ جاتا ہے تب اس کی آنکھ کھلتی ہے اور اسے ایک خاص بصیرت ملتی ہے جس سے معارف قرآنی اس پر کھلنے لگتے ہیں۔میں اس بات