خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 564
564 $2003 خطبات مسرور کے ماننے کے لئے کبھی بھی تیار نہیں ہوں کہ وہ شخص جو صدق سے محبت نہیں رکھتا اور راستبازی کو اپنا شعار نہیں بناتا وہ قرآن کریم کے معارف کو سمجھ بھی سکے۔اس لئے کہ اس کے قلب کو اس سے مناسبت ہی نہیں کیونکہ یہ تو صدق کا چشمہ ہے اور اس سے وہی پی سکتا ہے جس کو صدق سے محبت ہو“۔(ملفوظات جلد اول صفحه (٣٦٥-٣٦٦) پھر آپ نے فرمایا کہ: میں نے غور کیا ہے قرآن شریف میں کئی ہزار حکم ہیں ان کی پابندی نہیں کی جاتی۔ادنیٰ ادنی سی باتوں میں خلاف ورزی کر لی جاتی ہے یہاں تک دیکھا جاتا ہے کہ بعض جھوٹ تو دوکاندار بولتے ہیں اور بعض مصالحہ دار جھوٹ بولتے ہیں حالانکہ خدا تعالیٰ نے ان کو رجس کے ساتھ رکھا ہے۔مگر بہت سے لوگ دیکھے ہیں کہ رنگ آمیزی کر کے حالات بیان کرنے سے نہیں رکتے اور اس کو کوئی گناہ بھی نہیں سمجھتے۔ہنسی کے طور پر بھی جھوٹ بولتے ہیں۔انسان صدیق نہیں کہلا سکتا جب تک جھوٹ کے تمام شعبوں سے پر ہیز نہ کرے۔( یعنی ہر طرح کے جھوٹ سے پر ہیز جب تک نہیں -- (tr ہوتا )۔پھر آپ نے فرمایا : ” خدا تعالیٰ نے مجھے اسی لئے مامور کیا ہے ( ہم احمدی جو ہیں جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مانا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے اسی لئے مامور کیا ہے کہ تقویٰ پیدا ہو اور خدا پر سچا ایمان جو گناہ سے بچاتا ہے پیدا ہو۔خدا تعالیٰ تاوان نہیں چاہتا بلکہ سچا تقویٰ چاہتا ہے“۔(ملفوظات جلد پنجم صفحه۔(۱۲۱ - ۱۲۰ اللہ تعالیٰ ہم میں سے ہر ایک کو سچ کے اعلیٰ معیار قائم کرنے اور جھوٹ سے بیزار ہو کر نفرت کرنے والا بنائے۔ہر احمدی جدھر بھی جائے اس پر کبھی اس اشارے کے ساتھ انگلی نہ اٹھے کے یہ جھوٹا ہے بلکہ ہر انگلی ہر احمدی پر ان الفاظ پر اٹھے کہ اگر سچائی کا کوئی پیکر دیکھنا ہے تو یہ احمدی جارہا ہے۔اگر کسی قوم کے اندر کوئی سچائی دیکھنی ہے، اس دنیا میں موجودہ حالات میں کسی نے سچائی دیکھنی ہے تو ان احمدیوں میں دیکھو۔تو ہر احمدی خواہ وہ امریکہ میں رہنے والا ہو یا یورپ میں ہو، ہر دیکھنے والا احمدی کے متعلق یہی کہے کہ سچائی ان کا نمایاں پہلو ہے اور پہچان ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس خلق پر قائم رہنے کی اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔