خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 362 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 362

362 $2003 خطبات مسرور اور ان ابدال میں شامل ہو جو اس کا حکم سامنے رکھتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے جس طرح فرمایا ہے کہ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونَ ﴾ کہ میں نے جن اور انسان کو اس لئے پیدا کیا تا کہ وہ میری عبادت کریں۔اور پھر اس کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے اس کی عبادت کرتے رہیں۔اس سلسلہ میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے پرستش کے لئے ہی جن وانس کو پیدا کیا ہے۔ہاں یہ پرستی اور حضرت عزت کے سامنے دائمی حضور کے ساتھ کھڑے ہونا بجز محبت ذاتیہ کے ممکن نہیں اور محبت سے مراد یکطرفہ محبت نہیں بلکہ خالق اور مخلوق کی دونوں محبتیں مراد ہیں۔تاکہ بجلی کی آگ کی طرح جو مرنے والے انسان پر گرتی ہے اور جو اس وقت انسان کے اندر سے نکلتی ہے وہ شریعت کی کمزوریوں کو جلا دیں اور دونوں مل کر تمام روحانی وجود پر قبضہ کر لیں۔رستش پھر آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے جن اور انسان کو اسی لئے پیدا کیا ہے کہ وہ مجھے پہچانیں اور میری پرستش کریں۔پس اس آیت کی رو سے اصل مدعا انسان کی زندگی کا خدا تعالیٰ کی پرستش اور خدا تعالیٰ کی معرفت اور خدا تعالیٰ کے لئے ہو جانا ہے۔یہ تو ظاہر ہے کہ انسان کو تو یہ مرتبہ حاصل نہیں ہے کہ اپنی زندگی کا مدعا اپنے اختیار سے آپ مقرر کرے کیونکہ انسان نہ اپنی مرضی سے آتا ہے اور نہ اپنی مرضی سے واپس جائے گا بلکہ وہ ایک مخلوق ہے اور جس نے پیدا کیا ہے اور تمام حیوانات کی نسبت عمدہ اور اعلیٰ قومی اس کو عنایت کئے۔اسی نے اس کی زندگی کا ایک مدعا ٹھہرا رکھا ہے خواہ کوئی انسان اس مدعا کو سمجھے یا نہ سمجھے مگر انسان کی پیدائش کا مدعا بلا شبہ خدا تعالی کی پرستش، خدا تعالیٰ کی معرفت اور خدا تعالیٰ کے لئے فانی ہوجانا ہی ہے۔پھر آپ نے فرمایا: کیونکہ انسان فطرتا خدا ہی کے لئے پیدا ہوا ہے جیسا کہ فرمایا وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُون اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کی فطرت ہی میں اپنے لئے کچھ نہ کچھ رکھا ہوا ہے اور مخفی در مخفی اسباب سے اس کو اپنے لئے بنایا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے تمہاری پیدائش کی اصلی غرض یہ رکھی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو۔مگر جولوگ اپنی اس اصلی