خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 361
$2003 361 خطبات مسرور کہ پھر نئے سرے سے ان قوتوں کو زندہ کرے۔اور اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ان نئے زندہ کرنے والوں میں آپ کا بھی شمار ہے۔اس لئے مسجدوں کی آبادی کرنا آپ کا بہت زیادہ فرض ہو چکا ہے۔فرمایا : اب یہ زمانہ ہے کہ اس میں ریا کاری ، عجب خود، بینی، تکبر، نخوت ، رعونت و غیره صفات رذیلہ تو ترقی کر گئے ہیں اور مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ ) وغیرہ جو صفات حسنہ تھے وہ آسمان پر اٹھ گئے۔تو کل تدبیر وغیرہ سب کالعدم ہیں۔اب خدا کا ارادہ ہے کہ ان کی تخمریزی ہو۔پھر اسی آیت میں ایک تیسری بات ہمیں تنبیہ بھی ہے۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمارہے ہیں کہ اب خدا کا ارادہ ہے کہ نئے سرے سے ان قوتوں کو زندہ کرے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں توفیق دی کہ ہم اللہ تعالیٰ کے اس ارادے میں شامل ہوئے اور اس امام کو مانا۔لیکن اگر ہمارے عمل وہ نہ رہے جو خدا اور اس کا رسول ہم سے توقع کرتے ہیں تو پھر خدا کسی کا رشتہ دار نہیں ہے۔کوئی اور قوم آجائے گی، اور لوگ آجائیں گے۔مقصد تو انشاء اللہ پورا ہوگا لیکن ہم کہیں پیچھے نہ رہ جائیں۔اس میں یہ تنبیہ ہے کہ اگر تم نے اپنی توجہ اللہ تعالیٰ کی طرف نہ رکھی، دین کو اس کے لئے خالص نہ کیا تو یہ نہ ہو کہ شیطان تم پر غلبہ پالے اس لئے ہمیشہ استغفار کرتے ہوئے ، اس کے حضور جھکتے ہوئے اس سے اس کا فضل طلب کرتے رہو اور اس ضمن میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : اعمال کے لئے اخلاص شرط ہے۔جیسا کہ فرمایا مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ ﴾۔یہ اخلاص ان لوگوں میں ہوتا ہے جو ابدال ہوتے ہیں۔یہ لوگ ابدال ہو جاتے ہیں اور یہ اس دنیا کے نہیں رہتے۔ان کے ہر کام میں ایک خلوص اور اہلیت ہوتی ہے۔فرمایا یہ خوب یاد رکھو کہ جو شخص خدا تعالیٰ کے لئے ہو جاوے خدا تعالیٰ اس کا ہو جاتا ہے۔پس خدا تعالیٰ کا ہونے کے لئے اور خدا کو اپنا بنانے کے لئے خدا تعالیٰ نے انسان کی پیدائش کا جو مقصد بیان فرمایا ہے اس کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہئے ، اس کو ہمیشہ سامنے رکھنا چاہئے۔