خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 343 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 343

$2003 343 خطبات مسرور گی کہ کوئی طاقت اسے تو ڑ نہیں سکے گی۔(تفسير كبير جلد ٦ صفحه ٣٧٦ - ٣٧٧) پھر قرآن شریف میں آتا ہے ﴿وَ اَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَئِنْ أَمَرْتَهُمْ لَيَخْرُجُنَّ قُلْ لَّا تُقْسِمُوْا طَاعَةٌ مَّعْرُوفَةٌ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ (سورة النور : ۵۴۔اور انہوں نے اللہ کی پختہ قسمیں کھائیں کہ اگر تو انہیں حکم دے تو وہ ضرور نکل کھڑے ہوں گے۔تو کہہ دے کہ قسمیں نہ کھاؤ۔دستور کے مطابق (معروف طریق کے مطابق ) اطاعت (کرو)۔یقینا اللہ جوتم کرتے ہو اس سے ہمیشہ باخبر رہتا ہے۔تو اس آیت سے پہلی آیتوں میں بھی اطاعت کا مضمون ہی چل رہا ہے اور مومن ہمیشہ یہی کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی اور مانا۔اور اس تقویٰ کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کے مقرب ٹھہرتے ہیں اور بامراد ہو جاتے ہیں۔تو اس آیت میں بھی یہ بتایا ہے کہ مومنوں کی طرح ” سنو اور اطاعت کرو کا نمونہ دکھاؤ ہمیں نہ کھاؤ کہ ہم یہ کر دیں گے ، وہ کر دیں گے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی تفسیر میں لکھا ہے کہ دعوے تو منافق بھی بہت کرتے ہیں۔اور اصل چیز تو یہ ہے کہ عملاً اطاعت کی جائے اور منافقوں کی طرح بڑھ بڑھ کر باتیں نہ کی جائیں۔تو یہاں اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے لئے فرما رہا ہے کہ جو معروف طریقہ ہے اطاعت کا ، جو دستور کے مطابق اطاعت ہے، وہ اطاعت کرو۔نبی نے تمہیں کوئی خلاف شریعت اور خلاف عقل حکم تو نہیں دینا جس کے بارہ میں تم سوال کر رہے ہو۔اس کی مثال میں دیتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ میری بیعت میں شامل ہوئے ہو اور مجھے مانا ہے تو پنج وقتہ نماز کے عادی بن جاؤ ، جھوٹ چھوڑ دو، کبر چھوڑ دو، لوگوں کے حق مارنا چھوڑ دو، آپس میں پیار ومحبت سے رہو، تو یہ سب طاعت در معروف میں ہی آتا ہے۔یہ کام کوئی کرے نہ اور کہتے پھرو کہ ہم قسم کھاتے ہیں کہ آپ جو حکم ہمیں دیں گے ہم اس کو بجالائیں گے اور اسے تسلیم کریں گے۔اسی طرح خلفاء کی طرف سے مختلف وقتوں میں مختلف تحریکات بھی ہوتی رہتی ہیں۔روحانی ترقی کے لئے بھی جیسا کہ مساجد کو آباد کرنے کے بارہ میں ہے، نمازوں کے قیام کے بارہ میں ہے، اولاد کی تربیت کے بارہ میں ہے، اپنے اندر اخلاقی قدریں بلند کرنے کے بارہ میں، وسعت حوصلہ پیدا کرنے کے بارہ میں ، دعوت الی اللہ کے بارہ میں ، یا متفرق مالی تحریکات ہیں۔تو یہی باتیں