خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 297
297 $2003 خطبات مسرور فرمایا: جتنا چاہو۔اگر اس میں اضافہ کرو تو تمہارے لئے اور بھی بہتر ہے۔میں نے عرض کیا کہ آئندہ میں اپنی دعا کا سارا وقت حضور پر درود کے لئے مقرر کرتا ہوں۔حضور اقدس ﷺ نے فرمایا : اس صورت میں تمہاری ساری ضرورتیں اور مرادیں پوری ہوں گی اور سب گناہ معاف ہو جائیں گے۔(ترمذی کتاب صفة القيامة باب ماجاء في اوانى (الحوض اس زمانہ میں بھی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ماننے والوں میں بھی ایسی مثالیں ملتی ہیں جیسا کہ اس روایت سے پتہ چلتا ہے۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: میں لاہور کے دفتر اکا ؤنٹنٹ جنرل میں ملازم تھا۔۱۸۹۸ء کا یہ اس کے قریب کا واقعہ ہے کہ میں درود شریف کثرت سے پڑھتا تھا اور اس میں بہت لذت اور سرور حاصل کرتا تھا۔انہی ایام میں میں نے ایک حدیث میں پڑھا کہ ایک صحابی نے رسول اللہ اللہ کے حضور میں عرض کیا کہ میری ساری دعائیں درود شریف ہی ہوا کریں گی۔یہ حدیث پڑھ کر مجھے بھی پر زور خواہش پیدا ہوئی کہ میں بھی ایسا ہی کروں۔چنانچہ ایک روز جبکہ قادیان آیا ہوا تھا اور مسجد مبارک میں حضرت مسیح موعود (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر تھا، میں نے عرض کیا کہ میری یہ خواہش ہے کہ میں اپنی تمام خواہشوں اور مرادوں کی بجائے اللہ تعالیٰ سے درود شریف ہی کی دعا مانگا کروں۔حضور نے اس پر پسندیدگی کا اظہار فرمایا اور تمام حاضرین سمیت ہاتھ اٹھا کر اسی وقت میرے لئے دعا کی۔کہتے ہیں تب سے میرا اس پر عمل ہے کہ اپنی تمام خواہشوں کو درود شریف کی دعا میں شامل کر کے اللہ تعالیٰ سے مانگتا ہوں“۔ایک روایت ہے، حدیث میں آتا ہے۔حضرت عبدالرحمن بن عوف روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ گھر سے باہر تشریف لائے تو میں آپ کے پیچھے پیچھے ہو گیا۔آپ " کھجوروں کے ایک باغ میں داخل ہوئے اور سجدہ ریز ہو گئے۔کہتے ہیں رفتہ رفتہ انتظار کرتے کرتے اتنا لمبا عرصہ گزر گیا کہ میں دیکھ رہا تھا کہ اس عرصہ میں آپ مسجدہ کی حالت میں ہیں۔اور سجدہ میں چونکہ میں مخل نہیں ہونا چاہتا تھا اس لئے میں آگے نہیں بڑھا۔لیکن اتنا لمبا عرصہ گزرا تو مجھے خطرہ محسوس ہوا کہ نعوذ باللہ من ذلک رسول اللہ ﷺ کی روح قفس عنصری سے پرواز نہ کر گئی ہو، اسی سجدہ کی حالت میں آپ فوت نہ ہو گئے ہوں۔اس غم اور فکر سے میں دوڑا۔قریب آیا تو رسول اللہ ﷺ نے میرے آنے الله