خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 216 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 216

خطبات مس $2003 216 تشھد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد درج ذیل آیت تلاوت فرمائی ﴿وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَا زِيْدَنَّكُمْ وَلَئِنْ كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيْدٌ (ابراهیم : ۸) اللہ تعالیٰ کا بڑا شکر و احسان ہے اور اس پر ہم جتنا بھی شکر کریں کم ہے کہ اس نے محض اور محض اپنے فضل سے جلسہ سالانہ یو کے کو بخیر وخوبی اختتام تک پہنچایا اور اللہ تعالی کے فضلوں کی بارش ہوتی ہم نے دیکھی اور محسوس کی اور ہر ایک نے جس نے بھی ایم ٹی اے کے ذریعہ سے دنیا کے تمام ممالک میں جہاں جہاں بھی اس جلسہ کی کارروائی دیکھی اور سنی یہی اظہار کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو ہم نے نازل ہوتے دیکھا۔الحمدللہ الحمد للہ۔یہ سب اسی حقیقی اسلامی تعلیم کا حصہ ہے اور اسی کی وجہ سے ہے جو اس زمانے میں ہمیں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی وجہ سے حاصل ہوئی۔آج تمام اسلامی دنیا میں سوائے جماعت احمدیہ کے کسی کو یہ پتہ ہی نہیں، علم ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری کے کیا طریق ہیں۔اور پھر اپنے وعدوں کے مطابق خدا تعالیٰ اپنے فضلوں کو کس طرح بڑھاتا ہے اور بڑھاتا چلا جاتا ہے۔جماعت نے اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑا کر دعائیں کیں۔اس کا فضل مانگا، اس کا رحم مانگا۔اس کے حضور جھکے ، اپنے اندر خلافت کی نعمت کو قائم رکھنے کے لئے بے انتہا تڑپے۔نتیجہ وہ خدا جو اپنے بندے سے بے انتہا پیار کرنے والا خدا ہے، جو بندے کے ایک قدم آگے کی طرف بڑھانے سے کئی قدم اس کی طرف بڑھتا ہے۔اس خدا نے جو سچے وعدوں والا خدا ہے اپنے بندوں کی خوف کی حالت کو امن میں بدلا۔وہ خدا جو سب طاقتوں کا مالک ہے ، وہ خدا جو مٹی کے ذرے سے بھی کام لینے کی طاقت رکھتا ہے، وہ خدا جو ایک تنکے میں بھی فولاد کے شہتیر سے بھی زیادہ