خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 180 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 180

180 $2003 خطبات مسرور نشان سے ان کو پہچانا۔ہم سمجھتے ہیں کہ یہ آیت اسی قسم کے لوگوں کے حق اور شان میں نازل ہوئی کہ مومنوں میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ سے جو عہد کیا اس کو پورا کر دکھایا اور وہ اپنے عہد میں سچے نکلے۔جب واپسی مدینہ کو ہوئی تو یہ خبر آئی کہ کفار کا لشکر دوبارہ راستہ میں اکٹھا ہوکر مدینہ پر حملہ کرنا چاہتا ہے۔اس وقت آنحضور ﷺ جب ( غزوہ اُحد کے بعد ) ہفتہ کی شام اُحد سے واپس لوٹے تو آپ اور آپ کے صحابہ نے رات مدینہ میں بسر کی اور رات بھر مسلمان اپنے زخموں کی مرہم پٹی کرتے رہے۔یعنی جو بچے تھے وہ بھی سخت زخمی ہو چکے تھے۔جب رسول کریم ﷺ نے صبح کی نماز ادا کی تو آپ نے حضرت بلال کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو بلائیں اور کہیں کہ آپ یہ دشمن کا پیچھا کرنے کا حکم دیتے ہیں۔اس سے پہلے کہ دشمن مدینہ پر حملہ آور ہو آپ نے حکم دیا کہ ہمیں چلنا چاہئے۔اور ہمارے ساتھ صرف وہی نکلیں گے جو کل جنگ میں شامل تھے۔آپ نے اپنا جھنڈا منگوایا اور اسے کھولے بغیر حضرت علی کو دے دیا۔رسول کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم اس حال میں دشمن کے مقابلہ کے لئے نکلے کہ سب زخموں سے چور تھے۔جب آپ حمراء الاسد پہنچے ( جو مدینہ سے دس میل کے فاصلہ پر ہے ) تو مسلمانوں نے ایک بہت بڑی آگ جلائی جو دُور دُور سے نظر آتی تھی اور یوں لگتا تھا کہ بہت بڑی تعداد میں لوگ جمع ہیں اللہ تعالیٰ نے اس سے کفار کے دلوں میں ایسا رعب پیدا کیا کہ وہ فوراً مکہ لوٹ گئے۔رسول کریم ﷺ صحابہ کرام کے ساتھ حمراء الاسد میں سوموار، منگل اور بدھ تک ٹھہرے رہے اور پھر واپس مدینہ لوٹ آئے۔(بخاری کتاب الجهاد باب قول الله تعالى من المومنين رجال صدقوا۔۔۔۔۔۔۔الله تاريخ الطبری جلد ۲ صفحه (۷۵ پھر یہ تھی اس آیت کی واقعاتی اور تاریخی تصویر جو تفصیل سے میں نے پڑھی لیکن اس بارہ میں حضرت خلیفہ اُسیح اول رضی اللہ عنہ نے ایک اور بہت اہم نکتہ بھی پیش فرمایا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ تُبَرِّئُ الْمُؤْمِنِيْنَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالَ۔تو بٹھاتا تھا مومنوں کو جگہ بہ جگہ جہاں انہیں کھڑے ہوکر لڑنا چاہئے۔اس سے ایک سبق تمہارے لئے نکلتا ہے کہ دشمن کا مقابلہ، مناظرہ، مباحثہ بے شک کرو مگر اپنے امام کی منشاء کے ماتحت۔کیونکہ یہ ترتیب جس کا انجام فتح و ظفر ہو اللہ کے بندے ہی