خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 181 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 181

خطبات مسرور جانتے ہیں۔181 $2003 ( حقائق الفرقان جلد اول صفحه ٥٢٦) تو بعض خطوں کی وجہ سے مجھے فکر پیدا ہوئی جو میں یہاں بیان کرتا ہوں۔ایک دوست نے لکھا کہ کیونکہ دشمن ہر وقت زبان درازی کرتا رہتا ہے اور جماعت کے متعلق بالکل جھوٹی اور لغو باتیں منسوب کی جاتی ہیں۔پھر تبلیغ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ایسے لوگ جن کو میں تبلیغ کرتا ہوں ان کو بھی ان کے دماغوں میں غلط فہمیاں پیدا کی جاتی ہیں اور ہماری طرف غلط باتیں منسوب کر کے ان کو بتائی جاتی ہیں اور یہ کہا جاتا ہے کہ اگر یہ لوگ یعنی احمدی بچے ہیں تو ہمارے سے مباہلہ کر لیں۔تو لکھنے والے یہ لکھتے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں کہ مجھے مباہلہ کا چیلنج قبول کر لینا چاہئے اور اس کی اجازت دی جائے۔اب ایک خط کی تو مجھے کر نہیں تھی لیکن مختلف جگہ سے یہ سلسلہ شروع ہوا اور اس سے فکر پیدا ہوئی۔تو اس بارہ میں آپ لوگوں کو ذہن میں رکھنا چاہئے جیسا کہ حضرت خلیفہ ای اول کا ارشاد ہے کہ ہر معاملہ میں امام کے پیچھے چلیں۔آپ میں سے کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ اپنے امام سے آگے نکلنے کی کوشش کریں۔یا کسی کو مباہلہ کا چیلنج دیں۔ہر ایک کا تو حق ہی نہیں ہے۔اس کے بھی کچھ قواعد وضوابط ہیں۔آنحضرت ﷺ نے بھی جب عیسائیوں اور یہودیوں کو مباہلہ کا چیلنج دیا تو اپنی مرضی سے تو نہیں دیا تھا۔جب تک خدا تعالیٰ نے آپ کو نہیں کہا اور طریق نہیں بتا دیا آپ ہمیشہ ہدایت کی دعائیں ہی کرتے رہے۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی جب مخالفین کی دشنام طرازیاں انتہا کو پہنچ گئی تو اللہ تعالی کے اذن سے مختلف لوگوں کو مباہلہ کی دعوت دی پھر اس زمانہ میں آپ نے دیکھا کہ حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے بھی مباہلہ کا چیلنج دیا تو اللہ تعالیٰ کے اذن سے ہی دیا۔تو یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ ہر کوئی اٹھے اور اس قسم کی سوچ دل میں پیدا کر لے بلکہ مناظروں مباحثوں وغیرہ میں بھی اس قسم کی شرطیں لگانے کی اجازت نہیں ہے جس سے یہ احساس ہوتا ہو کہ آپ جماعت کی اور احمدیت کی سچائی کو اپنی شرطوں کے ساتھ مشروط کر رہے ہیں یا اپنی دعاؤں کے ساتھ مشروط کر رہے ہیں۔احمدیت تو سچی ہے اور یقیناً حضرت مسیح موعود علیہ ال والسلام کا آنا خدائی بشارتوں کے ماتحت اور آنحضرت مے کی پیشگوئیوں کے مطابق ہے۔اور الصلوة