خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 97
$2003 97 خطبات مسرور قدر نہیں کی جاتی۔حالانکہ وہ جو کچھ کرتے ہیں دوسروں کی نقل میں کرتے ہیں۔لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کسی کی نقل میں قربانی نہیں کی۔بلکہ ادھر خدا نے حکم دیا اور ادھر وہ قربانی کے لئے تیار ہو گئے۔یہی وہ لوگ ہیں جو دنیا کے ستون ہوتے ہیں اور جن کا بابرکت وجود مصائب کے لئے تعویذ کا کام دے رہا ہوتا ہے۔وہ قربانیاں بھی کرتے ہیں مگر ساتھ ہی یہ کہتے جاتے ہیں کہ اے خدا! ہماری قربانی اس قابل نہیں کہ تیرے حضور پیش کی جا سکے۔تیری ہستی نہایت اعلیٰ وارفع ہے۔ہاں ہم امید رکھتے ہیں کہ تو چشم پوشی سے کام لیتے ہوئے اسے قبول فرمالے گا۔تیرا نام سمیع ہے اور تو دعاؤں کو سنے والا ہے۔ہماری یہ قربانی قبول کرنے کے لائق تو نہیں مگر تو جانتا ہے کہ ہمارے پاس اس سے زیادہ اور کچھ چیز نہیں جو تیرے سامنے پیش کریں۔ایک طرف تیرا سمیع ہونا چاہتا ہے کہ تو ہم پر رحم کرے اور دوسری طرف تیرا علیم ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ تو جانتا ہے کہ ہمارے جیسے نے کیا قربانی کرنی ہے۔اسی روح کا حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسمعیل علیہ السلام نے مظاہرہ کیا۔اور جب وہ دونوں مل کر بیت اللہ کی بنیادیں اٹھارہے تھے تو ساتھ ہی اللہ تعالیٰ سے دعائیں بھی کرتے جاتے تھے کہ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اے ہمارے رب ہم نے خالص تیری تو حید اور محبت کے لئے یہ گھر بنایا ہے۔تو اپنے فضل سے اسے قبول کرلے اور اس کو ہمیشہ اپنے ذکر اور برکت کی جگہ بنادے۔إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ﴾ تو ہماری دردمندانہ دُعاؤں کو سننے والا اور ہمارے حالات کو خوب جاننے والا ہے۔تو اگر فیصلہ کر دے کہ یہ گھر ہمیشہ تیرے ذکر کے لئے مخصوص رہے گا تو اسے کون بدل سکتا ہے۔حضرت مصلح موعود مزید فرماتے ہیں: (تفسیر کبیر۔جلد نمبر ۲ صفحه ۱۷۷ تا ۱۸۰) اس آیت سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ بیت اللہ بنانے کے در حقیقت دو حصے ہیں۔ایک حصہ بندے سے تعلق رکھتا ہے۔اور دوسرا حصہ خدا تعالیٰ سے تعلق رکھتا ہے۔جس مکان کو ہم بیت اللہ کہتے ہیں وہ اینٹوں سے بنتا ہے، چونے سے بنتا ہے، گارے سے بنتا ہے۔اور یہ کام خدا نہیں کرتا بلکہ انسان کرتا ہے۔مگر کیا انسان کے بنانے سے کوئی مکان بیت اللہ بن سکتا ہے۔انسان تو صرف