خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 541
541 $2003 خطبات مسرور کی جماعت میں رہ ہی نہیں سکتے۔لیکن بعض چھوٹی چھوٹی بیماریاں جو ہیں ان کی اصلاح کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے رہنا چاہئے۔مثلاً کوئی جماعتی عہدیدار ہے، کارکن ہے یا کوئی شخص دنیاوی انتظامیہ میں ہے کہ عام روز مرہ کے تعلق اور واسطوں میں ہوتا ہے کہ اگر کسی کو کوئی خدمت کرنے کا موقع مل جائے ، کسی کام پر مقرر کر دیا جائے تو مقرر ہونے کے بعد اپنے سے پہلے عہد یداریا کارکن کے متعلق نقائص نکالنے شروع کر دے کہ دیکھو یہ کام میں نے کیسے اعلیٰ رنگ میں کر لیا ہے جب کہ مجھے سے پہلے عہد یدار یا کارکن سے ہو ہی نہیں سکا۔یا اس میں اتنی لیاقت ہی نہیں تھی کہ وہ کر سکتا۔جب که صحیح طریق تو یہ ہے کہ اگر کام ہو گیا ہے تو اللہ تعالیٰ سے مدد مانگے ، اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے کہ اس نے مجھے یہ توفیق دی کہ یہ کام میرے ذریعہ سے ہو گیا ہے۔اور یہ دعا کرے کہ اے اللہ ! اب اس وجہ سے میرے دل میں کوئی بڑائی نہ آنے دینا اور میری اصلاح کر دینا۔تو اس طرح کے بہت سے واقعات ہیں جو روز مرہ ہوتے رہتے ہیں۔تو انسان کو ہمیشہ یہ مدنظر رکھنا چاہئے ورنہ شیطان کے راستے پر چل کر کم از کم جو اچھا کام بھی ہوا ہو، ان کا موں کو مکمل کرنے کے بعد یونہی اپنی نیکی کا اظہار کرنے کے بعد کہ دیکھو میں نے یہ کر دیا، وہ کر دیا، اپنی نیکی کو برباد کرنے والی بات ہے۔جب اس نہج پر اپنی اصلاح کی کوشش کرتا ہے تو یہی سلامتی کا راستہ ہے۔انسان کی بچت اسی میں ہے کہ سلامتی کے راستے تلاش کرے ورنہ پھر جیسا کہ فرمایا کہ تم روشنی سے اندھیروں کی طرف جاؤ گے اور یہ شیطان کا راستہ ہے روشنی سے اندھیروں کی طرف جانا۔اس لئے ہمیشہ شیطان سے پناہ مانگتے رہو۔اللہ تعالیٰ سے اس کا فضل مانگو اور یہ دعا کرو کہ اے اللہ ! ہمیں اندھیروں سے نجات دے کر نور کی طرف لے جا اور ہر قسم کی فواحش سے ہمیں بچا۔چاہے وہ ظاہری ہوں، چاہے باطنی ہوں۔اور ظاہری سے تو پھر بعض خوف ایسے خوف ایسے ہوتے ہیں جو روکنے میں کردار ادا کر رہے ہوتے ہیں۔لیکن چھپی ہوئی فواحش جو ہیں یہ ایسی ہیں جو بعض دفعہ انسان کو متاثر کرتے ہوئے بہت دور لے جاتے ہیں۔مثلاً بعض دفعہ غلط نظارے ہیں، غلط فلمیں ہیں، بالکل عریاں فلمیں ہیں، اس قسم کی دوسری چیزوں کو دیکھ کر آنکھوں کے زنا میں مبتلا ہورہا ہوتا ہے انسان۔پھر خیالات کا زنا ہے ، غلط قسم کی کتابیں پڑھنا، یا سوچیں لے کر آنا۔بعض ماحول ایسے ہیں کہ ان میں بیٹھ کر انسان اس قسم کی فحشاء میں ھنس رہا ہوتا ہے۔پھر کانوں سے بے حیائی کی باتیں سننا۔تو یہ دعا سکھائی گئی ہے کہ اے اللہ ہمارا