خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 540
$2003 540 خطبات مسرور کے دھوکے میں آکر ایمان لانے کے بعد بھی اس کی باتوں کو ماننے لگ جاتے ہیں اور مرتد اور فاسق ہو جاتے ہیں اور یہ خطرہ اس قدر عظیم ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل نہ ہو تو کوئی شخص بھی اس خطرہ سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔مگر اس فضل کو جذب کرنے کا طریق یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی صفت سمیع سے فائدہ اٹھائے اور اس کے دروازے کو کھٹکھٹائے۔اگر وہ اس کے دروازے کو کھٹکھٹائے گا اور اس سے دعائیں کرنا اپنا معمول بنالے گا تو اللہ تعالیٰ جو علیم ہے اور اپنے بندوں کے حالات اور ان کی کمزوریوں کو خوب جانتا ہے اس کے دل میں ایسی ایمانی قوت پیدا کر دے گا جس کے نتیجہ میں وہ شیطانی حملوں سے محفوظ ہو جائے گا اور اسے طہارت اور پاکیزگی میسر آ جائے گی“۔(تفسیر کبیر جلد ششم صفحه (۲۸۱ جب دعا ئیں کر رہے ہوں شیطان سے بچنے کے لئے جو کہ روز ہر احمدی کو ضرور کرنی چاہئیں تو آنحضرت ﷺ کی اس دعا کو بھی ہمیشہ پیش نظر رکھیں۔حدیث میں آتا ہے۔حضرت عبداللہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ اللہ ہمیں کچھ دعائیہ کلمات سکھائے اور دعائیہ کلمات سکھانے میں آپ کا انداز وہ نہ ہوتا تھا جو تشہد سکھاتے وقت ہوتا تھا۔وہ کلمات یہ ہیں کہ:- ”اے اللہ ! ہمارے دلوں میں محبت پیدا کر دے۔اور ہماری اصلاح کر دے اور ہمیں سلامتی کی راہوں پر چلا اور ہمیں اندھیروں سے نجات دے کر نور کی طرف لے جا۔اور ہمیں ظاہری اور باطنی فواحش سے بچا۔اور ہمارے لئے ہمارے کانوں میں، ہماری آنکھوں میں ، ہمارے دلوں میں ، ہماری بیویوں میں اور ہماری اولا دوں میں برکت رکھ دے۔اور ہم پر رجوع برحمت ہو۔یقیناً تو ہی توبہ قبول کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔اور ہمیں اپنی نعمتوں کا شکر کرنے والا اور ان کا ذکر خیر کرنے والا اور ان کو قبول کرنے والا بنا اوراے اللہ ہم پر وہ نعمتیں مکمل فرما۔(سنن ابی داؤد کتاب الصلواة باب التشهد اب اللہ تعالیٰ کا فضل مانگنے کے لئے یہ کتنی خوبصورت دعا ہے کہ شیطان کے حیلوں ،اس کی طرف سے پیدا کئے ہوئے وسوسوں، اس کی شرارتوں سے بچنے کے لئے اللہ کا فضل اور اس کی پناہ ضروری ہے۔تو سب سے بڑھ کر انسان کا اپنا نفس ہے جو ایسی باتوں کا شکار ہوتا ہے۔کہ گو وہ اس حد تک تو نہیں پہنچتا جیسے کہ میں نے پہلے مثال دی ہے کہ بگڑتے بگڑتے اتنی دور چلے جاتے ہیں کہ نیکوں