خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 67 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 67

$2003 67 خطبات مسرور پر آ ٹوٹتے ہیں۔ایک شخص نے عرض کی کہ یہ ہماری تعداد کی کمی کی جہ سے ہوگا ؟ فرمایا نہیں۔تم اس زمانے میں تعداد میں بہت ہو گے لیکن تم ایسے ہو گے جیسے دریا کے پانی پر میل اور کوڑے کا جھاگ ہوتا ہے۔اللہ تمہارے رعب کو تمہارے دشمنوں کے دل سے نکال ڈالے گا اور تمہارے دلوں میں وھن ڈالے گا۔ایک شخص نے عرض کیا۔یا رسول اللہ ! وھن کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: دنیا کی محبت اور موت کا خوف۔الله (سنن ابی داؤد کتاب الملاحم باب فى تداعى الأمم على الاسلام یہ جو آج کل ہم دیکھ رہے ہیں۔آخری زمانہ میں تجارت کے بارہ میں پیشگوئی۔حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے جب قرب قیامت کا زمانہ آئے گا تو خاص خاص لوگوں کو ہی سلام کیا جائے گا اور تجارت اس قدر پھیل جائے گی کہ عورت اپنے خاوند کی تجارت میں اس کی مدد کرے گی اور رحمی رشتہ منقطع ہو جائیں گے۔(مسند احمد بن حنبل جلد ۱ صفحه ٤١٩ مطبوعه (بيروت) حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور کہا کہ اے محمد ! اگر جنت کا عرض آسمان اور زمین ہے تو پھر دوزخ کہاں ہے؟۔آپ نے فرمایا کہ تو نے نہیں دیکھا کہ جب رات آتی ہے تو دن کہاں چلا جاتا ہے۔اس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا کہ اسی طرح اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔( المستدرك على الصحيحين كتاب الايمان جلد ۱ صفحه ۹۲ حدیث نمبر ۱۰۳) اس زمانہ میں یہ سمجھنا مشکل تھا لیکن اس میں جو مختلف سمتوں یا Dimention کے وجود کی خبر دی گئی ہے آج کل انسان سمجھ سکتا ہے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آئندہ ہونے والی باتیں بیان فرمائیں ان کی چند مثالیں۔آپ فرماتے ہیں: ”میرے مخلص دوست مولوی نور دین صاحب کا ایک لڑکا فوت ہو گیا تھا اور وہی ایک لڑکا تھا۔اس کے فوت ہونے پر بعض نادان دشمنوں نے بہت خوشی ظاہر کی اس خیال سے کہ مولوی صاحب لا ولد رہ گئے ، تب میں نے ان کے لئے بہت دعا کی اور دعا کے بعد خدا تعالیٰ کی طرف سے