خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 68
68 $2003 خطبات مسرور مجھے یہ اطلاع ملی کہ تمہاری دعا سے ایک لڑکا پیدا ہو گا اور اس بات کا نشان کہ وہ محض دعا کے ذریعہ سے برا کیا گیا ہے۔یہ بتایا گیا کہ اس کے بدن پر بہت سے پھوڑے نکل آئیں گے۔چنانچہ وہ لڑکا پیدا ہوا جس کا نام عبدالحئی رکھا گیا اور اس کے بدن پر غیر معمولی پھوڑے بہت سے نکلے جن کے داغ اب تک موجود ہیں۔اور یہ پھوڑوں کا نشان لڑکے کے پیدا ہونے سے پہلے بذریعہ اشتہار شائع کیا پیدا گیا تھا۔فرماتے ہیں: (حقيقة الوحى، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۳۰) سعداللہ لدھیانوی کی موت کی خبر دیتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام د منجملہ اُن نشانوں کے سعد اللہ لدھیانوی کی موت ہے جو پیشگوئی کے مطابق ظہور میں آئی۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب منشی سعد اللہ لدھیانوی بدگوئی اور بد زبانی میں حد سے بڑھ گیا اور اپنی نظم اور نثر میں اس قدر مجھ کو گالیاں دیں کہ میں باور نہیں کر سکتا کہ جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے کسی نے ایسی گندی گالیاں کسی نبی اور مرسل کو دی ہوں جیسا کہ اس نے مجھے دیں۔چنانچہ جس شخص نے اس کی مخالفانہ نظمیں اور نثریں اور اشتہار دیکھے ہوں گے اس کو معلوم ہوگا کہ وہ میری ہلاکت اور نابود ہونے کے لئے اور نیز میری ذلت اور اس کی نامرادی دیکھنے کے لئے کس قدر حریص تھا اور میری مخالفت میں کہاں تک اس کا دل گندہ ہو گیا تھا۔پس ان تمام امور کے باعث میں نے اس کے بارہ میں یہ دعا کی کہ میری زندگی میں اس کو نا مرادی اور ذلت کی موت نصیب ہو۔سوخدا نے ایسا ہی کیا اور جنوری ۱۹۰۷ء کے پہلے ہی ہفتہ میں چند گھنٹہ میں نمونیا پلیگ سے اس جہان فانی سے ہزاروں حسرتوں کے ساتھ کوچ کر گیا اور وہ پیشگوئی جس میں میں نے لکھا تھا کہ نامرادی اور ذلت کیسا تھ میرے رو بر ووہ مرے گا۔وہ انجام آتھم میں عربی شعروں میں ہے اور وہ یہ ہے: تو نے اپنی خباثت سے مجھے بہت دکھ دیا ہے۔پس میں سچا نہیں ہوں گا اگر ذلت کے ساتھ تیری موت نہ ہو۔اور صرف تیری ذلت پر کچھ حصر نہیں، خدا تجھے مع تیرے گروہ کے ذلیل کرے گا اور مجھے عزت دے گا یہاں تک کہ لوگ میرے جھنڈے کے نیچے آجائیں گے۔اے میرے خدا مجھ میں اور سعد اللہ میں فیصلہ کر۔یعنی جو کا ذب ہے صادق کے روبرو اس کو