خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 520
$2003 520 خطبات خلیفتہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے یہ شرط لگائی تھی کہ ضرور میٹرک پاس کرے۔بلکہ اب تو معیار کچھ بلند ہو گئے ہیں اور میں کہوں گا کہ ہر احمدی بچے کو ایف۔اے ضرور کرنا چاہئے۔افریقہ میں جو کم از کم معیار ہے پڑھائی کا۔سیکنڈری سکول کا یا جی سی ایس سی ، یہاں بھی ہے، وہاں بھی۔اسی طرح ہندوستان اور بنگلہ دیش اور دوسرے ملکوں میں، یہاں بھی میں نے دیکھا ہے یورپ کے اور امریکہ کے بعض لڑکے ملتے ہیں وہ پڑھائی چھوڑ بیٹھے ہیں۔تو یہ کم از معیار ضرور حاصل کرنا چاہئے۔بلکہ یہاں تک تعلیمی سہولتیں ہیں بچوں کو اور بھی آگے پڑھنا چاہئے۔اور سیکرٹریاں تعلیم کو اپنی جماعت کے بچوں کو اس طرف توجہ دلاتے رہنا چاہئے۔اگر تو یہ بچے جس طرح میں نے پہلے کہا، کسی مالی مشکل کی وجہ سے انہوں نے پڑھائی چھوڑی ہوئی ہے تو جماعت کو بتا ئیں۔جماعت انشاء اللہ حتی الوسع ان کا انتظام کرے گی۔اور پھر یہ بھی ہوتا ہے بعض دفعہ کہ بعض بچوں کو عام روایتی پڑھائی میں دلچسپی نہیں ہوتی۔اگر اس میں دلچسپی نہیں ہے تو پھر کسی ہنر کے سیکھنے کی طرف بچوں کو توجہ دلائیں۔وقت بہر حال کسی احمدی بچے کا ضائع نہیں ہونا چاہئے۔پھر ایسی فہرستیں ہیں جو ان پڑھے لکھوں کی تیار کی جائیں جو آگے پڑھنا چاہتے ہیں۔ہائر سٹڈیز کرنا چاہتے ہیں لیکن مالی مشکلات کی وجہ سے نہیں پڑھ سکتے تو جس حد تک ہوگا جماعت ایسے لوگوں کی مدد کرے گی۔لیکن بہر حال سیکرٹریان تعلیم کو خود بھی اس سلسلے میں Active ہونا پڑے گا اور ہونا چاہئے۔تو یہ چند مثالیں ہیں۔جو ذمہ داری ہے سیکرٹری تعلیم کی، اور بھی بہت سارے کام ہیں اس بارہ میں چند مثالیں میں نے دی ہیں۔اگر محلے کے لیول سے لے کر نیشنل لیول تک سیکرٹریان تعلیم مؤثر ہو جائیں اور کام کر نے والے ہوں تو یہ تمام باتیں جو میں نے بتائیں ہیں اور ان کے علاوہ بھی اور بہت ساری باتیں ہیں ان سب کا علم ہو سکتا ہے۔فہرست تیار ہوسکتی ہے اور پھر ایسے طلباء کو مدد کر کے پھر آگے پڑھایا بھی جا سکتا ہے۔پھر سیکرٹری تربیت یا اصلاح و ارشاد ہے ان کو بھی بہت فعال کرنے کی ضرورت ہے۔اگر یہ سکرٹریاں تربیت یا اصلاح وارشاد بعض جگہوں پر کہلاتے ہیں، اپنے معین پروگرام بنا کر نچلے سے نچلے لیول سے لے کر مرکزی لیول تک کام کریں جس طرح کام کرنے کا حق ہے تو امور عامہ کے مسائل بھی اس تربیت سے حل ہو جائیں گے تعلیم کے مسائل بھی کافی حد تک کم ہو جائیں گے، رشتہ