خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 519 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 519

519 $2003 خطبات مسرور تو اس حدیث میں یہ توجہ دلائی گئی ہے کہ بحیثیت عہد یدار تم پر بڑی ذمہ داری ہے۔بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اس لئے صرف یہ نہ سمجھو کہ عہد یدار بن کر ، صرف عاملہ میں بیٹھ کر جو معاملات لڑائی جھگڑے یا لین دین کے آتے ہیں ان کو ہی نمٹانا مقصود ہے۔بلکہ ہر عہدیدار پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری نبھائے۔ہر سیکرٹری اپنے فرائض کی ادائیگی کا ذمہ دار ہے۔اب سیکرٹری امور عامہ کا صرف یہ کام ہی نہیں ہے کہ آپس کے فیصلے کروائے جائیں یا غلط حرکات اگر کسی کی دیکھیں تو انہیں دیکھ کر مرکز میں رپورٹ کر دی جائے۔اس کا یہ کام بھی ہے کہ اپنی جماعت کے ایسے بریکا را فراد جن کو روزگار میسر نہیں، خدمت خلق کا بھی کام ہے اور روزگار مہیا کرنے کا بھی کام ہے، اس کے لئے روزگار کی تلاش میں مدد کرے۔بعض لوگ طبعا کاروباری ذہن کے بھی ہوتے ہیں۔ایسے لوگوں کی فہرستیں تیار کریں۔اگر ایسے افراد میں صلاحیت دیکھیں تو تھوڑی بہت مالی مدد کر کے معمولی کا روبار بھی ان سے شروع کروایا جاسکتا ہے۔اور اگر ان میں صلاحیت ہوگی تو وہ کاروبار چمک بھی جائے گا اور آہستہ آہستہ بہتر کاروبار بن سکتا ہے۔میں نے کئی لوگوں کو دیکھا ہے جو پاکستان میں بھی سائیکل پر پھیری لگا کر یا کسی دوکان کے تھڑے پر بیٹھ کے ٹوکری رکھ کر یا چند کپڑے کے تھان رکھ کر اس وقت دوکانوں کے مالک بنے ہوئے ہیں۔تو یہ ہمت دلانا بھی توجہ دلانا بھی، ایسے لوگوں کو پیچھے پڑ کر کہ کسی نہ کسی کام پر لگیں یہ بھی جماعتی نظام یا جماعتی نظام کے عہد یدار کا کام ہے جس کے سپرد یہ کام کیا گیا ہے یعنی سیکرٹری امور عامہ۔پھر سیکرٹری تعلیم ہے۔عموماً سیکرٹریان تعلیم جماعتوں میں اتنے فعال نہیں جتنے ان سے توقع کی جاتی ہے یا کسی عہدیدار سے توقع کی جاسکتی ہے۔اور یہ میں یونہی اندازے کی بات نہیں کر رہا، ہر جماعت اپنا اپنا جائزہ لے لے تو پتہ چل جائے گا کہ بعض سیکرٹریان پورے سال میں کوئی کام نہیں کرتے۔حالانکہ مثلاً سیکرٹری تعلیم کی مثال دے رہا ہوں ، سیکرٹری تعلیم کا یہ کام ہے کہ اپنی جماعت کے ایسے بچوں کی فہرست بنائے جو پڑھ رہے ہیں، جو سکول جانے کی عمر کے ہیں اور سکول نہیں جا رہے۔پھر وجہ معلوم کریں کہ کیا وجہ ہے وہ سکول نہیں جار ہے۔مالی مشکلات ہیں یا صرف نکما پن ہی ہے۔اور ایک احمدی بچے کوتو توجہ دلانی چاہئے کہ اس طرح وقت ضائع نہیں کرنا چاہئے۔مثلاً پاکستان میں ہر بچے کے لئے