خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 31 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 31

صل الله 31 $2003 خطبات مسرور اس وقت میرے پاس ہی تھے۔آپ نے جب مجھے اس سخت چٹان کو مشکل سے توڑتے دیکھا تو آپ نے میرے ہاتھ سے کدال لے لی اور اس چٹان پر ماری تو اس سے ایک چنگاری نکلی۔آپ نے دوبارہ کدال ماری تو پھر چنگاری نکلی۔تیسری بار بھی ایسے ہی ہوا۔اس پر میں نے عرض کی میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں۔آپ کے کدال مارنے سے یہ کیسی چنگاریاں نکلی تھیں؟ آپ نے فرمایا کیا تم نے بھی یہ چنگاریاں دیکھی ہیں۔میں نے عرض کی جی ہاں۔فرمایا پہلی مرتبہ نکلنے والی چنگاری پر اللہ تعالیٰ نے مجھے یمن کی فتح کی خبر دی ہے۔دوسری بار شام اور مغرب اور تیسری بار نکلنے والی چنگاری سے مشرق کی فتح کی خبر دی ہے۔(سيرة النبوية لابن هشام ذكر غزوة خندق پھر دیکھیں اللہ تعالیٰ نے کس شان سے یہ پیشگوئی پوری فرمائی۔حضرت زینب بنت جحش بیان کرتی ہیں کہ ایک دفعہ آنحضرت یہ گھبرائے ہوئے ان کے پاس تشریف لائے اور فرمانے لگے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ہلاکت اور بربادی ہو عرب کے لئے اُس شر اور برائی کی وجہ سے جو قریب آگئی ہے۔آج یا جوج ماجوج کی دیوار سے اتنا سا سوراخ کھل گیا ہے۔آپ نے وضاحت کے لئے اپنی دوانگلیوں یعنی انگو ٹھے اور اس انگلی کو ملایا اور حلقہ بنایا۔میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول ! کیا ہم ہلاک ہو جائیں جب کہ ہم میں نیک لوگ بھی موجود ہوں گے۔آپ نے فرمایا ہاں اس صورت میں کہ خبث اور برائی بڑھ جائے اور وہ نیکی پر غالب آجائے۔بخاری کتاب الفتن با ب ياجوج و ماجوج حاطب بن ابی بلتعہ کا اہل مکہ کو خط روانہ کرنا اور اللہ تعالیٰ کا آنحضور کو اس سے آگاہ فرمانا، اس کا ذکر تو قرآن شریف میں بھی ہے۔اس کا حدیث میں یہ ذکر ہے کہ حاطب بن ابی بلتعہ آنحضرت کے بدری صحابہ میں سے تھے۔انہوں نے اپنے بھولے پن میں اہل مکہ سے ہمدردی جتانے کے لئے ایک خط لکھا جس میں اہل مکہ کو آنحضرت مہ کے مکہ کی طرف حملہ کی غرض سے کوچ کرنے کا لکھا تھا۔ابھی یہ خط انہوں نے روانہ ہی کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو الله اس کی خبر دے دی۔چنانچہ آنحضور ﷺ نے حضرت علی، حضرت ابو مرثد غنوی اور حضرت زبیر بن العوام کو گھوڑوں پر روانہ کیا اور فرمایا کہ فلاں جگہ روضة خاخ میں ایک مشرک عورت تم کو ملے گی اس