خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 30
$2003 30 خطبات مسرور گھبراہٹ پیدا ہوتی ہے کہ اگر اس وقت کسی سے پوچھا جائے تو وہ اپنے بچوں کو قربان کرنے کے لئے بھی تیار ہو جاتی ہیں کہ اس مصیبت سے نجات ہو کسی طرح۔انسانیت کو بچانے کے لئے بہت دعائیں کریں دوسری جنگ عظیم میں یہ نظارے دیکھے گئے حالانکہ وہ بہت کم طاقت کے ایٹم بم تھے اور اب تو اس سے کئی گنا زیادہ طاقت کے ایٹم بم تیار ہو چکے ہیں اور اس وقت جو دنیا کے حالات ہیں وہ یہی نظر آرہے ہیں کہ دنیا بڑی تیزی سے تباہی کے کنارے کی طرف بڑھ رہی ہے۔پس آج ہمیشہ کی طرح جماعت احمدیہ کا فرض ہے، جس کے دل میں انسانیت کا درد ہے کہ انسانیت کو بچانے کے لئے دعائیں کریں اور بہت دعائیں کریں۔دنیا خدا کو پہچان لے اور تباہی سے جس حد تک بچ سکتی ہے بچے۔آنحضرت ﷺ کے بیان فرمودہ وہ ارشادات جن میں آپ نے اللہ تعالیٰ سے اطلاع پا کر قبل از وقت کسی بات کے ظاہر ہونے کی خبر دی ان میں سے کچھ بیان کرتا ہوں۔الله مشرکین مکہ کے سرداروں کی قتل گاہوں کے متعلق آنحضرت ﷺ نے خبر دی تھی۔حضرت انس سے روایت ہے کہ ہم حضرت عمرؓ کے ساتھ مکہ اور مدینہ کے درمیان کسی جگہ تھے۔آپ نے ہمیں صلى الله اہل بدر کے بارہ میں بتانا شروع کیا اور فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ بدر سے ایک روز قبل ان کفار مکہ کی قتل گاہیں بتائیں اور فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو یہ کل فلاں فلاں کی قتل گاہ ہوگی۔حضرت عمرؓ نے فرمایا: مجھے اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے وہ بعینہ وہیں پر گرے۔بعد میں انہیں ایک گڑھے میں ڈال دیا گیا۔پھر رسول کریم ﷺ تشریف لائے اور دو دفعہ نام لے کر آواز دی کہ اے فلاں بن فلاں! کیا تم نے وہ وعدہ سچ نہیں پایا جو تمہارے رب نے تم سے کیا تھا؟ میں نے تو اس وعدہ کو سچ ہی پایا ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھ سے کیا ہے۔اس پر حضرت عمرؓ نے عرض کی : کیا آپ ﷺ مر دوں سے باتیں کرتے ہیں جن میں کوئی روح نہیں۔آپ نے فرمایا کہ تم میری باتوں کو ان سے زیادہ نہیں سنتے۔صلى الله (سنن نسائی کتاب الجنائز باب ارواح المومنين الله تعالیٰ نے یہ بھی انتظام کیا۔پھر یمن، شام اور مشرق کی فتوحات کی خبر۔حضرت سلمان فارسی بیان کرتے ہیں کہ غزوہ صلى الله خندق کے موقع پر خندق کی کھدائی کے دوران ایک سخت چٹان میرے آڑے آئی تو رسول الله له