خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 333
خطبات مسرور 333 $2003 ایک اقتباس میں اپنی تعلیم کے متعلق آپ فرماتے ہیں کہ : ”فتنہ کی بات نہ کرو۔شر نہ کرو۔گالی پر صبر کرو۔کسی کا مقابلہ نہ کرو۔جو مقابلہ کرے اس سے سلوک اور نیکی سے پیش آؤ۔شیریں بیانی کا عمدہ نمونہ دکھلاؤ۔سچے دل سے ہر ایک حکم کی اطاعت کرو کہ خدا تعالیٰ راضی ہو اور دشمن بھی جان لے کہ اب بیعت کر کے یہ شخص وہ نہیں رہا جو کہ پہلے تھا۔مقدمات میں سچی گواہی دو۔اس سلسلہ میں داخل ہونے والے کو چاہئے کہ پورے دل، پوری ہمت اور ساری جان سے راستی کا پابند ہو جاوے۔دنیا ختم ہونے پر آئی ہوئی ہے۔“ ( البدر ۱۶ مارچ ۱۹۰۴ ، ملفوظات جلد سوم صفحه ۶۲۰۔۶۲۱) اب یہاں جس طرح فرمایا آپ نے کہ فتنہ کی بات نہ کرو۔بعض لوگوں کو عادت ہوتی ہے کہ صرف مزا لینے کے لئے عادتاً ایک جگہ کی بات دوسری جگہ جا کر کر دیتے ہیں اور ان سے فتنہ پیدا ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔مختلف قسم کی طبائع ہوتی ہیں، جس کے سامنے بات کی اور بات بھی اس کے متعلق کی تو قدرتی طور پر اس شخص کے دل میں اس دوسرے شخص کے بارہ میں غلط رنجش پیدا ہوگی جس کی طرف منسوب کر کے وہ بات کی جاتی ہے۔اور وہ بات اسے پہنچائی گئی ہے تو یہ بخش گو میرے نزدیک پیدا نہیں ہونی چاہئے۔ایسے فتنوں کو روکنے کا بھی یہ طریقہ ہے کہ جس کی طرف منسوب کر کے بات پہنچائی گئی ہو اس کے پاس جا کر وضاحت کر دی جائے کہ آیا تم نے یہ باتیں کی ہیں یا نہیں، یہ بات میرے تک اس طرح پہنچی ہے۔تو وہیں وضاحت ہو جائے گی اور پھرایسے فتنہ پیدا کرنے والے لوگوں کی اصلاح بھی ہو جائے گی۔تو بعض اس طرح بھی ہوتا ہے کہ ایسے لوگ ، فتنہ پیدا کرنے والے، خاندانوں کو خاندانوں سے لڑا دیتے ہیں۔تو ایسے فتنہ کی باتوں سے خود بھی بچو اور فتنہ پیدا کرنے والوں سے بھی بچو۔اور اگر ہو سکے تو ان کی اصلاح کی کوشش کرو۔پھر شتر ایک تو براہ راست لڑائی جھگڑوں سے ، گالی گلوچ سے پیدا ہوتا ہے، اس سے فتنہ بھی پیدا ہوتا ہے۔تو فرمایا کہ اگر تمہیں میرے ساتھ تعلق ہے اور میری اطاعت کا دم بھرتے ہو تو میری تعلیم یہ ہے کہ ہر قسم کے فتنہ اور شتر کی باتوں سے بچو۔تم میں صبر اور وسعت حوصلہ اس قدر ہو کہ اگر تمہیں کوئی گالی بھی دے تو صبر کرو۔پھر اس تعلیم پر عمل کر کے تمہارے لئے نجات کے راستے کھلیں گے۔تم خدا تعالیٰ کے مقربین