خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 228 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 228

$2003 228 خطبات مسرور ہیں۔ساتھ یہ بھی بتا دیا کہ جب خدا تعالیٰ تمہیں کسی بات کا حکم دیتا ہے تو حکم کر کے چھوڑ نہیں دیتا بلکہ تم پر گہری نظر رکھنے والا بھی ہے کہیں اس کے احکام کی ادائیگی میں تم خیانت تو نہیں کر رہے۔اگر خیانت کر رہے ہو تو اس کے جو منطقی نتائج سامنے آنے چاہئیں جو نکلنے چاہئیں وہ تو نکلیں گے اور ساتھ ہی جو امانت تمہارے سپرد کی گئی ہے وہ بھی تم سے واپس لے لی جائے گی۔تم خدمت سے محروم کر دئے جاؤ گے۔ایک اعزاز تمہیں ملا تھا وہ تم سے چھین لیا جائے گا کیونکہ جن کے تم نگران بنائے گئے ہو ان کی دعاؤں کو اگر وہ نیک اور متقی ہیں اللہ تعالی سنتا ہے اور اپنی مخلوق پر ظلم اور زیادتی کی تمہیں اجازت نہیں دے گا۔تو جیسے کہ پہلے میں نے بیان کیا ہے کہ وہ نصیحت ہے کیا جس پر تم نے کار بند ہونا ہے۔وہ باتیں ، وہ حکم ہے کیا جن پر ہم نے عمل درآمد کرنا ہے۔تو پہلی بات تو یہ ہے کہ امانتیں ان کے حقداروں کے سپر د کرو۔اب وہ کونسی امانتیں ہیں جو ہمارے پاس خدا تعالیٰ نے رکھی ہیں اور ہمیں حکم ہے کہ ان کے سپر د کرو جو کہ صحیح حق دار ہیں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حکومت وقت کی اطاعت کی جائے۔یہی رعایا کی لوگوں کی طرف سے ادائے امانت ہے اور پھر حکام کی طرف سے، افسران کی طرف سے امانت کا ادا کرنا، اپنی رعایا کی ، اپنے شہریوں کی حفاظت کرنا، ان کے حقوق کا خیال رکھنا، حکام اور افسران کی طرف سے امانت کی صحیح ادا ئیگی ہے۔ہمارے نظام جماعت میں عہد یداروں کا نظام مختلف سطحوں پر ہے۔اس زمانے میں ہر احمدی جہاں ، جس ملک میں رہتا ہے اس ملک میں دنیا وی سطح پر امانتیں اہل لوگوں کے سپرد کرنے کی کوشش کرتا ہے، ان تک پہنچانے کی کوشش کرتا ہے۔اور اس کا فرض ہے کہ اپنے اس فرض کی صحیح ادائیگی کرے اور حق دار لوگوں تک اس امانت کو پہنچائے وہاں نظام جماعت بھی ہر احمدی سے خواہ عہدیدار ہو یا عام احمدی اس سے یہی توقع رکھتا ہے کہ وہ اپنی امانتوں کی صحیح ادا ئیگی کرے۔اب سب سے پہلے تو افراد جماعت ہیں جو نظام جماعت چلانے کے لئے عہدیدار منتخب کرتے ہیں۔ان کا کیا فرض ہے، انہوں نے کس طرح جماعت کی اس امانت کو جو ان کے سپرد کی گئی ہے صحیح حقداروں تک پہنچانا ہے۔تو اس کے لئے جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں انتخابات سے پہلے قواعد بھی پڑھ کر سنائے