خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 185
$2003 185 خطبات مسرور مہمان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مہمان ہیں ان کو حتی المقدور آرام پہنچانے کی کوشش کی جائے۔مرکزی انتظامیہ کو یہ فکر ہوتی ہے کہ مہمانوں کی خدمت بجا لانے والے تمام کارکن کیونکہ Volunteers ہوتے ہیں اور مختلف مزاج کے ہوتے ہیں تو کسی کارکن سے کسی مہمان کے لئے کوئی زیادتی کا کلمہ منہ سے نہ نکل جائے، کوئی زیادتی نہ ہو جائے۔اس لئے عموماً یہی روایت چلی آرہی ہے کہ کارکنوں کو توجہ دلانے کے لئے کہ کس طرح انہوں نے مہمانوں کی خدمت کرنی ہے جلسہ سے ایک جمعہ پہلے اس بارہ میں کچھ ہدایات دی جاتی ہیں۔لیکن اس کے ساتھ ہی میز بانوں کو بھی یہ مدنظر رکھنا چاہئے کہ کیونکہ یہ سارا عارضی انتظام ہوتا ہے کیونکہ کارکنان بڑی محنت سے خدمت بجالاتے ہیں لیکن اگر بعض جگہ کہیں کمی یا خامی رہ جائے تو ان کو برداشت کریں۔کارکنان کے لئے میں اب کچھ باتیں پیش کروں گا جس سے یہ احساس ہو کہ اللہ اور اس کے رسول یہ ہم سے مہمانوں کی خدمت کے بارہ میں ہم سے کیا توقعات رکھتے ہیں۔یہاں ایک بات کی اور وضاحت کردوں کہ جس طرح تمام کارکنان کے لئے جلسہ میں شامل ہونے والا ہر شخص مہمان کی حیثیت رکھتا ہے اسی طرح انگلستان کی پوری جماعت کے لئے دوسرے ملکوں سے آنے والے سب احمدی مہمان کی حیثیت رکھتے ہیں۔پس اگر ایسا کوئی موقعہ پیدا ہو کہ جہاں آپ کو قربانی دینی پڑے تو غیر ملکیوں کے لئے ، جو باہر سے آنے والے مہمان ہیں، ان کے لئے یہاں کے مقامی لوگ قربانی دیں۔ایک حدیث پیش کرتا ہوں۔حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم کے پاس آیا۔آپ نے اپنی ازواج کی طرف پیغام بھجوایا۔انہوں نے عرض کیا کہ ہمارے پاس تو پانی کے سوا کچھ نہیں۔اس پر حضور ﷺ نے صحابہ سے فرمایا کہ اس مہمان کے کھانے کا بندوست کون کرے گا ؟ ایک انصاری نے عرض کیا حضور میں انتظام کرتا ہوں۔چنانچہ وہ اس کے ساتھ گھر گیا اور اپنی بیوی سے کہا کہ آنحضرت ﷺ کے مہمان کی خاطر مدارات کا انتظام کرو۔بیوی نے جواباً کہا کہ گھر میں تو صرف بچوں کے کھانے کے لئے ہے۔اس انصاری نے کہا کہ کھانا تیار کرو، پھر چراغ جلا ؤ اور جب بچوں کے کھانے کا وقت آئے تو ان کو بہلا کر سلا دو۔چنانچہ عورت نے کھانا تیار کیا، صد