خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 95 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 95

$2003 95 خطبات مسرور اپنے بندے کی کسی دعا کو اس صورت میں جس میں کہ بندہ مانگ رہا ہے رڈ بھی کر دیتا ہے تو اسے مایوس نہیں ہونا چاہئے۔وہ واقعہ بڑا مشہور ا کثر آپ نے سنا ہے کہ جو بزرگ تمہیں سال تک دعا مانگتے رہے اور روزان کو یہی جواب ملتا تھا کہ نہیں منظور۔اور صرف تین دن ان کے ایک مرید نے ان کے پاس بیٹھ کر جو بے صبری کا مظاہرہ کیا تو وہ رو پڑے کہ میں تو اتنے عرصہ سے یہ دعا مانگ رہا ہوں اور مجھے یہی جواب مل رہا ہے۔اور میرا کام تو مانگنا ہے مانگتا چلا جاؤں گا۔اس بات پر وہی کیفیت دوبارہ طاری ہوئی اور وہ نظارہ مرید نے بھی دیکھا کہ اللہ تعالیٰ کا جواب تھا کہ اس عرصہ میں جتنی دعائیں ہیں سب قبول ہوئیں۔تو بڑی بنیادی چیز دعا مانگنے کے لئے صبر ہے اور یہ سوچ لینا چاہئے کہ خدا تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ کیا ہمارے لئے ضروری ہے۔اس بارہ میں ایک حدیث ہے۔اس آیت کی تشریح میں حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ : حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کعبہ کی تعمیر کے وقت حضرت اسماعیل علیہ السلام سے فرمایا : اے اسماعیل ! اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک خاص حکم دیا ہے۔حضرت اسماعیل علیہ السلام نے جواب دیا: آپ کے رب نے آپ کو جو حکم دیا ہے س پر عمل کیجئے۔آپ نے کہا: تو کیا تم میری اس بارے میں مدد کرو گے؟ حضرت اسماعیل نے جواب دیا : ہاں کروں گا۔حضرت ابراہیم نے فرمایا : تو پھر اللہ تعالیٰ نے مجھے یہاں اپنا ایک گھر بنانے کا حکم دیا ہے اور آپ نے ایک ٹیلہ نما جگہ کی طرف اشارہ کیا۔راوی کہتے ہیں کہ اس پر ان دونوں نے بیت اللہ کی بنیادیں اٹھانی شروع کیں۔حضرت اسماعیل پتھر لاتے جاتے اور حضرت ابراہیم (دیوار) بناتے جاتے۔جب عمارت ذرا بڑی ہوگئی تو آپ یہ پتھر ( یعنی حجر اسود ) لائے اور آپ کے لئے اُسے نیچے رکھا۔چنانچہ آپ اس پتھر پر کھڑے ہو کر تعمیر کرتے جاتے تھے جبکہ حضرت اسماعیل آپ کو پتھر پکڑاتے جاتے تھے اور ساتھ ساتھ آپ دونوں یہ دعا بھی پڑھتے جاتے تھے : اے ہمارے رب ! ہماری طرف سے قبول فرما، یقینا تو ہی بہت سننے والا اور بہت صاحب علم ہے۔(بخاری کتاب احادیث الانبياء باب قول الله تعالى واتخذا لله ابراهيم۔۔۔۔۔۔۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اس کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِیمُ یہ انبیاء ہی کی شان ہے کہ وہ کام