خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 94
خطبات مسہ $2003 94 تشھد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد درج ذیل آیت تلاوت فرمائی ﴿وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْرَاهِيمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَإِسْمَعِيْلُ۔رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيمُ﴾ (سورة البقره : ۱۲۸) آج سے اللہ تعالیٰ کی صفت سمیع سے خطبات شروع ہوں گے۔جو آیت میں نے ابھی تلاوت کی ہے اس کا ترجمہ ہے : اور جب ابراہیم اُس خاص گھر کی بنیادوں کو استوار کر رہا تھا اور اسماعیل بھی یہ دعا کرتے ہوئے ) کہ اے ہمارے رب ! ہماری طرف سے قبول کر لے۔یقینا تو ہی بہت سننے والا ( اور ) دائمی علم رکھنے والا ہے۔علامہ راغب نے اللہ تعالیٰ کے بارہ میں جب سمیع کا لفظ استعمال ہوا ہے۔اس کے بارہ میں لکھا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے الشمع کا لفظ منسوب کرتے ہیں تو اس سے مراد اللہ تعالیٰ کا سنائی جانے والی اشیاء کے بارے میں علم ہونا اور ان کے بارہ میں جزا دینے کا ارادہ کرنا ہوتا ہے۔جیسا کہ اس تعریف سے ظاہر ہے بعض دفعہ لوگ بعض جلد باز یہ دھو کہ کھا جاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو بہت پکارا، بہت دعا کی لیکن ہماری دعاسنی نہیں گئی۔ہماری پکار سے یا ہماری دعا سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ کو اس بات کا علم ہے کہ ہمیں کس چیز کی ضرورت ہے۔یا جو چیز ہم مانگ رہے ہیں، جس چیز کے لئے ہم دعا کر رہے ہیں اس کی اس حالت میں ضرورت ہے بھی یا نہیں۔اگر حقیقت میں ہمارا شمار اللہ تعالیٰ کی پیارے بندوں میں ہو، خدا کرے کہ ہو ، تو وہ بہتر جانتا ہے کہ اس وقت کس رنگ میں ہماری کیا ضرورت ہے۔تو یہ بات دعا کرتے ہوئے ہر وقت مدنظر رہنی چاہئے کہ جہاں وہ سمیع ہے علیم بھی ہے۔ہمارا کام صرف مانگنا ہے اور اکثر جب ہماری فریادوں کو اللہ تعالیٰ سنتا ہے وہاں اگر