خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 5
LO 5 $2003 خطبات مسرور ذکر محفل میں کرے گا تو میں اس بندے کا ذکر اس سے بہتر محفل میں کروں گا۔اگر وہ میری جانب ایک بالشت آئے گا تو میں اس کی طرف ایک ہاتھ جاؤں گا۔اگر میری طرف وہ ایک ہاتھ آئے گا تو میں اس کی طرف دو ہاتھ جاؤں گا۔اگر وہ میری طرف چل کر آئے گا تو میں اس کی طرف دوڑ کر جاؤں گا۔(ترمذی ابواب الدعوات باب في حسن الظن بالله عزّ وجلّ) یہاں تو جماعت ماہی بے آب کی طرح تڑپ رہی تھی۔پھر کیوں نہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کے مطابق دوڑتا ہوا آتا اور ہماری مددفرماتا۔الحمد للہ۔حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ آنحضرت شاید ہی کبھی کسی مجلس سے اُٹھے ہوں گے کہ آپ نے اپنے صحابہ کے لئے ان الفاظ میں دعا نہ کی ہو: اے میرے اللہ ! تو ہمیں اپنا ایسا خوف عطا کر جو ہمارے اور تیری معصیت کے درمیان حائل ہو جائے اور ہمیں اپنی ایسی اطاعت عطا کر جس کی وجہ سے تو ہمیں جنت میں پہنچا دے اور ایسا یقین بخش کہ جس کی وجہ سے دنیا کے مصائب تو ہم پر آسان کر دے۔اے میرے اللہ ! ہمیں اپنے کانوں، اپنی آنکھوں اور اپنی طاقتوں سے زندگی بھر صیح صحیح فائدہ اٹھانے کی توفیق دے اور ہمیں اس بھلائی کا وارث بنا۔اور جو ہم پر ظلم کرے اُس سے تو ہمارا انتقام لے۔جو ہم سے دشمنی رکھتا ہے اُس کے برخلاف ہماری مدد فرما۔اور ہمارے دین کے بارہ میں ہمیں کسی ابتلا میں نہ ڈال۔اور دنیا کو ہمارا سب اس سے بڑا غم اور فکر نہ بنا اور دنیا ہی ہمارا مبلغ علم نہ ہو۔یعنی ہمارے علم کی پہنچ صرف دنیا تک ہی محدود نہ ہو۔اور ایسے شخص کو ہم پر مسلط نہ کر جو ہم پر رحم نہ کرتا ہو۔(جامع ترمذی كتاب الدعوات باب ما جاء في عقد التسبيح باليد) خدا نے مجھے دعاؤں میں وہ جوش دیا ہے: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں :- جو لوگ دعا سے کام لیتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے لئے راہ کھول دیتا ہے۔وہ دعا کو رد نہیں کرتا۔قرآن شریف نے دعا کے دو پہلو بیان کئے ہیں۔ایک پہلو میں اللہ تعالیٰ اپنی منوانا چاہتا ہے اور دوسرے پہلو میں بندے کی مان لیتا ہے ﴿وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ