خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 85 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 85

$2003 85 ”ہم تو کہتے ہیں ایک مانی ہوئی مکی سورۃ میں کر آدُكَ إِلَى مَعَادِ﴾ کا آنا بتاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ ابھی مکہ میں ہی تھے کہ آپ اللہ تعالیٰ نے ہجرت کی خبر دی اور پھر فتح مکہ کی بھی خبر دی۔( تفسیر کبیر جلد هفتم صفحه (٤٥٩ چنانچہ اس الہی خبر کے مطابق رمضان ۸ ہجری میں آپ ایک فتح نصیب جرنیل کی طرح دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ مکہ میں داخل ہوئے۔پھر فرمایا: " وَاَنْتَ حِلٌّ بِهَذَا الْبَلَد اور تُو شاہانہ شان و شوکت کے ساتھ اس شہر میں محل ہونے والا ہے۔یعنی نزول کرنے والا ہے۔“ (ضمیمه اخبار بدر قادیان ٤ / اگست ١٩١٢ء) حضرت خلیفہ امسح الاول رضی اللہ عنہاس ضمن میں فرماتے ہیں کہ: لَرَادُّ كَ إِلى مَعَادٍ : قرآن جب کوئی بڑا دعویٰ کرتا ہے تو ساتھ ہی اس کی دلیل دیتا ہے جو بہت قوی ہوتی ہے۔پہلے فرمایا کہ میرے اتباع بادشاہ ہو جاویں گے۔اس کی دلیل میں فرمایا کہ یہ قرآن جس میں لکھا ہے کہ تیرے ساتھی حکمران بن جائیں گے۔اس میں یہ پیشگوئی کی جاتی ہے کہ وہ مکہ جہاں سے تمہیں نکالا گیا۔جہاں کے لوگوں کے سامنے کوئی تدبیر نہ چل سکی ایک وقت آتا ہے کہ اسی مکہ میں تم فاتح بن کر داخل ہو گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔(حقائق الفرقان جلد ۳ صفحه (۳۲۷ پھر آنحضرت ﷺ سے مروی آئندہ زمانہ کے لئے چند خبریں ہیں۔اس میں سب سے پہلے تو یہاں پیش کروں گا خلافت راشدہ اور ملوکیت اور بادشاہت کے آنے کی خبر اور پھر خلافت علی منہاج نبوت قائم ہونے کی خبر۔حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا تم میں نبوت قائم رہے گی جب تک اللہ تعالیٰ چاہے گا۔پھر وہ اس کو اٹھا لے گا۔اور خلافت علی منہاج النبوۃ قائم ہوگی۔پھر اللہ تعالیٰ جب چاہے گا اس نعمت کو بھی اٹھا لے گا۔پھر اس کی تقدیر کے مطابق ایذارساں بادشاہت قائم ہوگی۔جب یہ دور ختم ہوگا تو اس کی دوسری تقدیر کے مطابق اس سے بڑھ کر جابر بادشاہت قائم ہوگی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا رحم جوش میں آئے گا اور اس ظلم وستم کے دور کو ختم کر دے