خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 79
خطبات مسرور تَعْمَلُوْنَ 79 $2003 پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَلَنْ يُؤَخِّرَ اللهُ نَفْسًا إِذَا جَاءَ أَجَلُهَا۔وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِمَا (سورة المنافقون: ١٢) اور اللہ کسی جان کو ، جب اس کی مقررہ مدت آپہنچی ہو، ہرگز مہلت نہیں دے گا۔اور اللہ اس سے جو تم کرتے ہو ہمیشہ باخبر رہتا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس ضمن میں فرماتے ہیں: ” منافقانہ رجوع در حقیقت رجوع نہیں ہے لیکن جو خوف کے وقت میں ایک شقی کے دل میں واقعی طور پر ایک ہر اس اور اندیشہ پیدا ہو جاتا ہے اُس کو خدا تعالیٰ نے رجوع میں ہی داخل رکھا ہے اور سُنت اللہ نے ایسے رجوع کو دنیوی عذاب میں تا خیر پڑنے کا موجب ٹھہرایا ہے گو اخروی عذاب ایسے رجوع سے مل نہیں سکتا مگر دنیوی عذاب ہمیشہ ٹلتا رہا ہے اور دوسرے وقت پر پڑتا رہا ہے۔قرآن کو غور سے دیکھو اور جہالت کی باتیں مت کرو اور یا در ہے کہ آیت لَنْ يُؤخر الله يُؤَخِّرَ نفس کو اس مقام سے کچھ تعلق نہیں۔اس آیت کا تو مد عا یہ ہے کہ جب تقدیر مبرم آجاتی ہے تو ٹل نہیں سکتی۔مگر اس جگہ بحث تقدیر معلق میں ہے جو مشروط بشرائط ہے جبکہ خدا تعالیٰ قرآن کریم میں آپ فرماتا ہے کہ میں استغفار اور تضرع اور غلبہ خوف کے وقت میں عذاب کو کفار کے سر پر سے ٹال دیتا ہوں اور ٹالتا رہا ہوں۔پس اس سے بڑھ کر سچا گواہ اور کون ہوسکتا ہے جس کی شہادت قبول کی جائے۔(ضمیمه) انوار الاسلام : اشتهار انعامی تین هزار روپیه صفحه ۱۰ - روحانی خزائن جلد ۹ صفحه (A۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿فَا مِنُوْا بِاللَّهِ وَرَسُوْلِهِ وَالنُّوْرِ الَّذِي أَنْزَلْنَا۔وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيرٌ (سورة التغابن: ٩ ) | پس اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لے آؤ اور اس نور پر جو ہم نے اتارا ہے۔اور اللہ اُس سے جو تم کرتے ہو ہمیشہ باخبر رہتا ہے۔علامہ ابن جریر الطبری اس کی تفسیر میں ﴿وَاللهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ کے تحت لکھتے ہیں کہ: اس حصہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ اے لوگو! اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے باخبر ہے۔