خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 74 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 74

$2003 74 ام خطبات مسہ تشهد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: لا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ۔وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ﴾ (سورة الانعام: ١٠٣) اس کا ترجمہ ہے: آنکھیں اس کو نہیں پاسکتیں ہاں وہ خود آنکھوں تک پہنچتا ہے اور وہ بہت باریک بین اور ہمیشہ باخبر رہنے والا ہے۔ضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: خدا تعالیٰ کی ذات تو مخفی در مخفی اور غیب در غیب اور وَرَاءُ الْوَرَاء ہے اور کوئی عقل اُس کو دریافت نہیں کر سکتی۔جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے لَا تُدْرِكُهُ الَا بُصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ يعنى بصارتیں اور بصیر تیں اُس کو پا نہیں سکتیں اور وہ اُن کے انتہا کو جانتا ہے اور اُن پر غالب ہے۔پس اُس کی توحید محض عقل کے ذریعہ سے غیر ممکن ہے کیونکہ تو حید کی حقیقت یہ ہے کہ جیسا کہ انسان آفاقی باطل معبودوں سے کنارہ کرتا ہے یعنی جوں یا انسانوں یا سورج چاند وغیرہ کی پرستش سے دستکش ہوتا ہے ایسا ہی انفسی باطل معبودوں سے پر ہیز کرے۔یعنی اپنی روحانی جسمانی طاقتوں پر بھروسہ کرنے سے اور ان کے ذریعہ سے عجب کی بلا میں گرفتار ہونے سے اپنے تئیں بچاوے۔پس اس صورت میں ظاہر ہے کہ بجز ترک خودی اور رسول کا دامن پکڑنے کے توحید کامل حاصل نہیں ہو سکتی۔اور جوشخص اپنی کسی قوت کو شریک باری ٹھہراتا ہے وہ کیونکر موحد کہلاسکتا ہے۔“ پھر آپ فرماتے ہیں: 66 (حقيقة الوحى روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ١٤٨،١٤٧) بجز اس طریق کے کہ خدا خود ہی تجلی کرے اور کوئی دوسرا طریق نہیں ہے جس سے اس کی