خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 63
63 $2003 خطبات مسرور صدر سے ان کو ماننا پڑے گا کہ یہ در حقیقت آج کے دن کے لئے ایک نشان تھا اور ایک عظیم الشان پیشگوئی تھی جو ہمارے نبی کریم کے مبارک لبوں سے نکلی اور آج پوری ہوئی“۔(نزول المسیح، روحانی خزائن جلد ١٨ صفحه ٤٠٦) یہ بھی اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کے لئے پیش کی گئی ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ”میں وہ شخص ہوں جس کے زمانہ میں اس ملک میں ریل جاری ہو کر اونٹ بیکار کئے گئے اور عنقریب وہ وقت آتا ہے بلکہ بہت نزدیک ہے جبکہ مکہ اور مدینہ کے درمیان ریل جاری ہو کر وہ تمام اونٹ بریکار ہوجائیں گے جو تیرہ سو برس سے یہ سفر مبارک کرتے تھے۔تب اس وقت ان اونٹوں کی نسبت وہ حدیث جو صحیح مسلم میں موجود ہے صادق آئے گی یعنی یہ کہ لَيُتْرَكَنَّ الْقَلَاصُ فَلا يُسْعَى عَلَيْهَا “ یعنی مسیح کے وقت میں اونٹ بریکار کئے جائیں گے اور کوئی ان پر سفر نہیں کرے گا“۔(تذكرة الشهادتين، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه (٣٦) پھر فرمایا: ﴿وَإِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ اور جب صحیفے نشر کئے جائیں گے۔(التكوير : ١١ ) حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں: ”ایسا ہی قرآن شریف میں آخری زمانہ کی نسبت اور بھی پیشگوئیاں ہیں۔ان میں سے ایک یہ پیشگوئی بھی ہے ﴿وَإِذَا الصُّحُفُ نُشرت یعنی آخری زمانہ وہ ہوگا جبکہ کتابوں اور صحیفوں کی اشاعت بہت ہوگی گویا اس سے پہلے کبھی ایسی اشاعت نہیں ہوئی تھی۔یہ ان کلوں کی طرف اشارہ ہے جن کے ذریعہ سے آج کل کتابیں چھپتی ہیں اور پھر ریل گاڑی کے ذریعہ سے ہزاروں کوسوں تک پہنچائی جاتی ہیں۔(چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۳۲۲ ویسے تو قدیم زمانہ سے درختوں کے پتوں، ان کی چھالوں اور ہڈیوں اور پتھروں وغیرہ پر لکھنے کا رواج رہا ہے جیسا کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں رائج تھا۔تاہم با قاعدہ فن کتابت کا آغاز چین سے ہوا۔پہلا مطبوعہ نمونہ ۷۷ ء کا ہے جو برٹش میوزیم میں موجود ہے وہ چین کا ہے۔بہر حال اب یہ فن روز بروز ترقی پر ہے۔اس کی نئی نئی شکلیں مثلاً کمپیوٹر اور کمپیوٹرائزڈ چھاپہ خانے ، پھر آج کل ای میل وغیرہ مختلف چیزیں ہیں جو جاری ہیں جو اس الہی خبروں کی کہ ﴿وَاِذَا