خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 581
581 $2003 خطبات مسرور ہو تو اس کی اصلاح کے لئے وہ پوری کوشش کرتا ہے۔ایسے ہی اپنے کسی بھائی کو ترک نہ کرنا چاہئے بلکہ اس کی اصلاح کی پوری کوشش کرنی چاہئے۔قرآن کریم کی یہ تعلیم ہرگز نہیں ہے کہ عیب دیکھ کر اسے پھیلا ؤ اور دوسروں سے تذکرہ کرتے پھرو۔بلکہ وہ فرماتا ہے تَوَاصَوْبِالصَّبْرِ وَتَوَاصَوْ بِالْمَرْحَمَةِ (البلد : ۱۸) کہ وہ صبر اور رحم سے نصیحت کرتے ہیں۔مرحمہ یہی ہے کہ دوسرے کے عیب دیکھ کر اسے نصیحت کی جاوے اور اس کے لئے دعا بھی کی جاوے۔دعا میں بڑی تاثیر ہے اور وہ شخص بہت ہی قابل افسوس ہے کہ ایک کے عیب کو بیان تو سومرتبہ کرتا ہے لیکن دعا ایک مرتبہ بھی نہیں کرتا۔عیب کسی کا اس وقت بیان کرنا چاہئے جب پہلے کم از کم چالیس دن اس کے لئے رو روکر دعا کی ہو۔سعدی نے کہا ہے۔خدا داند و بپوشد همسایه نداند و خروشد کہ خدا تعالیٰ تو جان کر پردہ پوشی کرتا ہے مگر ہمسایہ کوعلم نہیں ہوتا اور شور کرتا پھرتا ہے۔خدا تعالیٰ کا نام ستار ہے۔تمہیں چاہئے کہ تَخَلَّقُوْا بِأَخْلَاقِ الله بنو۔ہمارا یہ مطلب نہیں ہے کہ عیب کے حامی بنو بلکہ یہ ہے کہ اشاعت اور غیبت نہ کرو، کیونکہ کتاب اللہ میں جیسا آگیا ہے تو یہ گناہ ہے کہ اس کی اشاعت اور غیبت کی جاوے۔شیخ سعدی کے دوشاگرد تھے۔ایک ان میں سے حقائق و معارف بیان کرتا تھا اور دوسرا جلا بھنا کرتا تھا۔آخر پہلے نے سعدی سے بیان کیا کہ جب میں کچھ بیان کرتا ہوں تو دوسرا جلتا ہے اور حسد کرتا ہے۔شیخ نے جواب دیا کہ ایک نے راہ دوزخ کی اختیار کی کہ حسد کیا اور تو نے غیبت کی۔غرضیکہ یہ سلسلہ چل نہیں سکتا جب تک رحم، دعا ستاری اور مرحمہ آپس میں نہ ہو۔(البدر ٨ جولائی ١٩٠٤ ، ملفوظات جلد چهارم صفحه ٦٠ - ٦١ فرماتے ہیں: ” اپنے بھائیوں اور بہنوں پر تہمتیں لگانے والا جو اپنے افعال شنیعہ سے تو بہ نہیں کرتا اور خراب مجلسوں کو نہیں چھوڑتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے“۔(کشتی نوح روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۱۹) بیعت کی خالص اغراض کے ساتھ جو خدا ترسی اور تقویٰ پر مبنی ہیں ، دنیا کے اغراض کو ہرگز نہ ملاؤ، نمازوں کی پابندی کرو اور توبہ واستغفار میں مصروف رہو۔نوع انسان کے حقوق کی حفاظت کرو اور کسی کو دُ کھ نہ دو۔راستبازی اور پاکیزگی میں ترقی کرو تو اللہ تعالیٰ ہر قسم کا فضل کر دے گا۔عورتوں کو