خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 577 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 577

$2003 577 خطبات مسرور برائیاں نظر آنا شروع ہو جائیں گی۔اور دوسروں کی برائیاں کرنے سے پہلے ایسا شخص سوچے گا اور پھر نیک نیت ہو کر پہلے اپنی اصلاح کی کوشش کرے گا، پھر اپنے دوست کی اصلاح کی کوشش کرے گا تا کہ حسین اور پاک معاشرہ قائم ہو جائے۔اللہ تعالیٰ ہم میں سے ہر ایک کو اس کی توفیق دے کہ اپنے آپ پر نظر رکھیں۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : ” بدظنی سے بچو کیونکہ بدظنی سخت قسم کا جھوٹ ہے۔ایک دوسرے کے عیب کی ٹوہ میں نہ رہو، اپنے بھائی کے خلاف تجسس نہ کرو، اچھی چیز ہتھیانے کی حرص نہ کرو، حسد نہ کرو، دشمنی نہ رکھو، بے رخی نہ برتو ، جس طرح اس نے حکم دیا ہے اللہ کے بندے اور بھائی بھائی بن کر رہو۔مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اور وہ اس پر ظلم نہیں کرتا، اسے رسوا نہیں کرتا ، اسے حقیر نہیں جانتا، اپنے سینے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آ پ نے فرمایا: تقومی یہاں ہے، تقویٰ یہاں ہے۔یعنی مقام تقولی تو دل ہے اور سب سے بڑا جو مقام تقویٰ ہے اور جس دل میں تقویٰ ہے وہ آنحضرت ﷺ کا دل ہے اور پھر ہر ایک کو بھی اپنے دلوں کو ٹولنا چاہئے اور تقویٰ پر قائم رہنا چاہئے۔تو ایک انسان کے لئے یہی برائی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کی تحقیر کرے۔ہر مسلمان کی تین چیزیں دوسرے مسلمان پر حرام ہیں۔اس کا خون، اس کی آبرو اور اس کا مال۔اللہ تعالیٰ تمہارے جسموں کی خوبصورتی کو نہیں دیکھتا اور نہ تمہاری صورتوں کو اور نہ تمہارے اموال کو بلکہ اس کی نظر تمہارے دلوں پر ہے۔اور ایک روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا: ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، اپنے بھائی کے خلاف جاسوسی نہ کرو، دوسروں کے عیبوں کی ٹوہ میں نہ رہو، ایک دوسرے کے سودے نہ بگاڑو۔اب یہاں سودے بگاڑنے میں ایک یہ چیز بھی آجاتی ہے کہ جو نئے رشتے قائم ہو رہے ہوتے ہیں لڑکے لڑکی کے ان میں بھی بعض لوگ بگاڑ پیدا کرتے ہیں جیسا کہ میں پہلے بیان کر آیا ہوں۔تو یہ بھی نہیں کرنا چاہئے۔عورتیں پہنچ جاتی ہیں، جہیز کا اور دوسری چیزوں کا بتانے کے لئے کہ فلاں جگہ نہیں ، فلاں جگہ اچھا رشتہ ہے۔پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے مخلص بندے اور بھائی بھائی بن کر رہو۔(بخاری کتاب النکاح باب لا يخطب على خطبه۔۔۔۔۔۔۔