خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 569
$2003 569 خطبات مسرور رکھتا ہے اور غیبت بھی کرتا ہے تجس اور نکتہ چینیوں میں مشغول رہتا ہے تو وہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھاتا ہے جیسے فرمایا اَيُحِبُّ أَحَدَكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيْهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوْهُ﴾۔اب جو غیبت کرتا ہے وہ روزے کیا رکھتا ہے ، وہ تو گوشت کے کباب کھاتا ہے اور کباب بھی اپنے مردہ بھائی کے گوشت کے۔اور یہ بالکل سچی بات ہے کہ غیبت کرنے والا حقیقت میں ہی ایسا بد آدمی ہے جو اپنے مردہ بھائی کے کباب کھاتا ہے۔مگر یہ کباب ہر ایک آدمی نہیں کھا سکتا۔ایک صوفی نے کشف میں دیکھا کہ ایک شخص نے کسی کی غیبت کی ہے۔جب اس کو قے کرائی گئی تو اس کے اندر سے بوٹیاں نکلیں جن میں سے بدبو آتی تھی۔( کتنی کراہت والی چیز ہے یہ لیکن جب کر رہا ہوتا ہے تو پتہ نہیں لگتا۔پھر فرمایا کہ یاد رکھو یہ کہانیاں نہیں، یہ واقعات ہیں۔جولوگ بدظنیاں کرتے ہیں جب تک اپنی نسبت بد قلیاں نہیں سن لیتے نہیں مرتے۔اب یہ جو حضرت خلیفتہ اسیح اول فرما رہے ہیں وہ اس حدیث کی روشنی میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمررؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دفعہ منبر پر کھڑے ہو کر بآواز بلند فرمایا کہ: اے لوگو! تم میں سے بعض بظاہر مسلمان ہیں لیکن ان کے دلوں میں ابھی ایمان راسخ نہیں ہوا۔انہیں میں متنبہ کرتا ہوں کہ وہ مسلمانوں کو طعن و تشنیع کے ذریعہ تکلیف نہ دیں اور نہ ان کے عیبوں کا کھوج لگاتے پھریں۔ورنہ یا درکھیں کہ جو شخص کسی کے عیب کی جستجو میں ہوتا ہے اللہ تعالی اس کے اندر چھپے عیوب کو لوگوں پر ظاہر کر کے اس کو لوگوں میں ذلیل و رسوا کر دیتا ہے۔(ترمذی باب البر والصلة باب ما جاء فى تعظيم المؤمن اب بعض لوگ اس لئے تجسس کر رہے ہوتے ہیں۔مثلاً عمومی زندگی میں لیتے ہیں، دفتروں میں کام کرنے والے، ساتھ کام کرنے والے اپنے ساتھی کے بارہ میں ، یا دوسری کام کی جگہ، کارخانوں وغیرہ میں کام کرنے والے، اپنے ساتھیوں کے بارہ میں کہ اس کی کوئی کمزوری نظر آئے اور اس کمزوری کو پکڑیں اور افسروں تک پہنچائیں تا کہ ہم خود افسروں کی نظر میں ان کے خاص آدمی ٹھہریں، ان کے منظور نظر ہو جائیں۔یا بعضوں کو یونہی بلا وجہ عادت ہوتی ہے، کسی سے بلا وجہ کا بیر ہو جاتا ہے اور پھر وہ اس کی برائیاں تلاش کرنے لگ جاتے ہیں۔تو یا درکھنا چاہئے کہ ایسے لوگوں کے بارہ میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ ایسے لوگوں کا کبھی بھی جنت میں دخل نہیں ہوگا،