خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 560
560 $2003 خطبات مسرور اکثر ایسے ہیں جن کی جب کوئی وعدہ کر رہے ہوتے ہیں تو شروع سے ہی نیت ٹھیک نہیں ہوتی۔اور بعد کے فعل سے یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ واقعی ابتداء سے ہی نیت بدتھی۔کیونکہ شروع میں انہوں نے یہی سوچا ہوتا ہے کہ ابھی وعدہ کرلو، جو فائدہ اٹھانا ہے اٹھا لو، اور جھوٹ بول لو، کوئی حرج نہیں۔اور جب وعدہ پورا کرنے کا وقت آئے گا تو پھر دیکھا جائے گا، پھر ٹال دیں گے، پھر تھوڑ اسا جھوٹ بول دیں گے۔تو ایسے لوگوں کو بھی اپنا محاسبہ کرتے رہنا چاہئے کہ وعدہ خلافی جس کو یہ معمولی سمجھ رہے ہیں یہ کوئی معمولی چیز نہیں ہے بلکہ آنحضرت ﷺ نے ایسے شخص کو منافقین کی صف میں کھڑا کر دیا ہے اور منافق کافر سے بھی زیادہ گنہ گار ہے۔پھر چوتھی خصلت کہ جب جھگڑتا ہے تو گالی گلوچ سے کام لیتا ہے۔اور اس کی سب سے زیادہ سمجھ احمد یوں کو ہی ہے۔آپ دیکھ لیں کہ مخالفین احمد بیت گالی گلوچ یا غلیظ زبان کا استعمال اس لئے کرتے ہیں کہ وہ جھوٹے ہیں۔اگر بچے ہوتے تو دلیل سے بات کرتے ، شریفانہ رنگ میں بات کرتے۔تو جھوٹے کے پاس جب کوئی دلیل نہیں ہوتی تو وہ ماردھاڑ اور گالی گلوچ پر اتر آتا ہے۔اور پھر ایسے لوگ اس تعریف کی رو سے منافق بھی ہیں۔اگر اس کو مزید کھولیں تو ایسے لوگوں کی اور بھی بہت ساری منافقانہ باتیں ظاہر ہونی شروع ہو جائیں گی۔تو یہ تو تھی غیروں کی بات۔ان کے عمل ان کے ساتھ ہیں، ان کا معاملہ خدا کے ساتھ ہے۔خدا خود ہی ان سے نمٹ لے گا لیکن احمدیوں کو بھی بہت محتاط ہونے اور اپنا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے۔آپس میں بعض دفعہ میاں بیوی میں، بھائیوں میں،رشتہ داروں میں، برادریوں میں ، اپنے ماحول میں، کاروباری حلقوں میں رنجشیں پیدا ہو جاتی ہیں۔غلط یا صحیح یہ ایک علیحدہ بات ہے لیکن کسی فریق کو بھی یہ زیب نہیں دیتا کہ ان رنجشوں کو اتنا بڑھا دیں کہ گالی گلوچ تک نوبت آ جائے۔تو ہمیں تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہی تعلیم دی ہے کہ اگر ایسا موقعہ پیدا ہو جائے تو صلح میں پہل کرو صلح کے لئے اپنا ہاتھ آگے بڑھاؤ۔بچے ہو کر جھوٹوں کی طرح تذلل اختیار کرو۔کجا یہ کہ گالی گلوچ کر کے منافقت کا لیبل اپنے پر لگا لیا جائے۔اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو اس سے بچائے، محفوظ رکھے۔جیسا کہ میں نے پہلے کہا گالی گلوچ ہمیشہ جھوٹا آدمی ہی کرتا ہے۔حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: