خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 557
557 $2003 خطبات مسرور تعداد میں واقفین نو بچے ہیں، ان کی بھی تربیت گوگھر کے ماحول میں بھی کرنی ہے لیکن احمدی ماحول میں بھی ان کی تربیت کرنی ہے تو اس لئے بچپن سے ہی بچوں میں اور ان کے دلوں میں جھوٹ سے نفرت اور بیچ سے محبت پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے لئے ہمیشہ، ہر وقت ، ہر ایک کو بہت زیادہ احتیاط کرنی چاہئے۔پھر حضرت عبداللہ بن عامر سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ ہمارے گھر تشریف فرما تھے کہ میری والدہ سے مجھے بلایا کہ آؤ میں تجھ کو کچھ دیتی ہوں۔اس پر آنحضور ﷺ نے فرمایا: ” تو اسے کیا دینا چاہتی ہے؟“۔انہوں نے عرض کیا کہ میں اس کو کھجور دینا چاہتی ہوں۔یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر تو اس کو کچھ نہ دیتی تو تیرے ذمہ جھوٹ لکھا جاتا۔(سنن ابی دائود كتاب الادب باب فى التشديد في الكذب۔اب یہ دیکھیں کتنی تنبیہ ہے۔پھر حضرت فاطمہ حضرت اسماء سے روایت کرتی ہیں کہ ایک عورت نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا: اے اللہ کے رسول ! میری ایک سوتن ہے۔اگر میں جھوٹے طور پر اس کے لئے یہ ظاہر کروں کہ خاوند مجھے یہ یہ چیزیں دیتا ہے حالانکہ وہ اس نے مجھے نہ دی ہوں ( اس کو تنگ کرنے کے لئے ، اس کو جلانے کے لئے ) تو کیا مجھ پر کوئی گناہ ہے؟ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ نہ ملنے والی چیزوں کا جھوٹے طور پر اظہار کرنے والا ایسا ہی ہے گویا اس نے جھوٹے کپڑے پہنے ہوئے ہیں۔(مسلم كتاب الزينة كتاب اللباس والزينة باب النهي عن التزوير۔۔۔۔۔۔تو یہ بھی جھوٹ ہی ہے۔تو اس معاشرے میں بھی بعض دفعہ مقابلے میں آکر غلط بیانیاں ہو رہی ہوتی ہیں۔بعض دفعہ کسی کو نیچا دکھانے کے لئے یہ مشہور کر دیتے ہیں کہ ہمارا افسر ہمارے سے بڑا تعلق رکھتا ہے تو بلا وجہ ایسے لوگوں کو حسد اور جلن بھی شروع ہو جاتی ہے۔پھر رشتہ داریوں میں صرف تنگ کرنے کے لئے ، اس کے علاوہ بھی ، اسی طرح کا اظہار کیا جاتا ہے جس سے دوسرے کو جلن شروع ہو۔گو یہ بھی ناپسندیدہ بات ہے۔کسی کے اگر کسی سے تعلقات ہیں تو کسی کو جلن اور حسد کی ضرورت نہیں ہے۔لیکن یہ جھوٹے طور پر اظہار ہے، یہ جھوٹ کے زمرے میں آجاتا ہے۔صلى الله پھر عبد اللہ بن عمرو بن العاص روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : چار باتیں ایسی ہیں جس میں پائی جائیں وہ خالص منافق ہے۔اور جس میں ان میں سے ایک بات پائی جائے