خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 546 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 546

خطبات مسرور 546 $2003 عزیز و! خدا تعالیٰ کے حکموں کو بے قدری سے نہ دیکھو۔موجودہ فلسفے کی زہر تم پر اثر نہ کرے۔ایک بچے کی طرح بن کر اس کے حکموں کے نیچے چلو۔نماز پڑھو، نماز پڑھو کہ وہ تمام طاقتوں کی کنجی ہے اور جب تو نماز کے لئے کھڑا ہوتو ایسا نہ کر کہ گویا کہ رسم ادا کر رہا ہے بلکہ نماز سے پہلے جیسے ظاہر وضو کرتے ہو ایسے ہی باطنی وضو بھی کرو اور اپنے اعضاء کو غیر اللہ کے خیال سے دھوڈالو۔تب تم دونوں وضوؤں کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ اور نماز میں بہت دعا کرو۔اور رونا اور گڑ گڑانا اپنی عادت کرلو تا تم پر رحم کیا جائے۔سچائی اختیار کرو، سچائی اختیار کرو کہ وہ دیکھ رہا ہے کہ تمہارے دل کیسے ہیں۔کیا انسان اُس کو بھی دھوکہ دے سکتا ہے؟ کیا اس کے آگے بھی مکاریاں پیش جاتی ہیں۔نہایت بد بخت آدمی اپنے فاسدانہ افعال کو اس حد تک پہنچاتا ہے کہ گویا خدا نہیں۔تب وہ بہت جلد ہلاک کیا جاتا ہے اور خدا تعالیٰ کو اس کی کچھ بھی پروا نہیں ہوتی۔عزیز و! اس دنیا کی مجرد منطق ایک شیطان ہے اور اس دنیا کا خالی فلسفہ ایک ابلیس ہے جو ایمانی نور کو نہایت درجہ گھٹا دیتا ہے اور بے باکیاں پیدا کرتا ہے اور قریب قریب دہریت تک پہنچاتا ہے۔سو تم اس سے اپنے آپ کو بچاؤ اور ایسا دل پیدا کرو جو غریب اور مسکین ہو اور بغیر چون و چرا کے حکموں کو ماننے والے ہو جاؤ۔بغیر چون و چرا کے حکموں کو ماننے والے ہو جاؤ جیسا کہ بچہ اپنی والدہ کی باتوں کو مانتا ہے۔قرآن کریم کی تعلیمیں تقویٰ کے اعلیٰ درجہ تک پہنچانا چاہتی ہیں ان کی طرف کان دھرو اور ان کے موافق اپنے تئیں بناؤ۔پھر آپ نے فرمایا: تم اس کی جناب میں قبول نہیں ہو سکتے جب تک ظاہر و باطن ایک نہ ہو۔بڑے ہو کر چھوٹوں پر رحم کرو نہ ان کی تحقیر۔اور عالم ہو کر نادانوں کو نصیحت کرو نہ خود نمائی سے ان کی تذلیل۔اور امیر ہوکر غریبوں کی خدمت کرو نہ خود پسندی سے ان پر تکبر۔ہلاکت کی راہوں سے ڈرو۔خدا سے ڈرتے رہو اور تقویٰ اختیار کرو۔خدا چاہتا ہے کہ تمہاری ہستی پر پورا پورا انقلاب آوے اور وہ تم سے ایک موت مانگتا ہے جس کے بعد وہ تمہیں زندہ کرے گا۔تم آپس میں جلد صلح کرو اور اپنے بھائیوں کے گناہ بخشو کیونکہ شریر ہے وہ انسان کہ جو اپنے بھائی کے ساتھ صلح پر راضی نہیں وہ کا ٹا جائے گا کیونکہ وہ تفرقہ ڈالتا ہے۔تم اپنی نفسانیت ہر ایک پہلو سے چھوڑ دو اور با ہمی ناراضگی جانے دو اور