خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 547 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 547

547 $2003 خطبات مسرور بچے ہو کر جھوٹے کی طرح تذلیل کرو تا تم بخشے جاؤ۔نفسانیت کی فربہی چھوڑ دو کہ جس دروازے کے لئے تم بلائے گئے ہو اس میں سے ایک فربہ انسان داخل نہیں ہوسکتا۔کیا ہی بدقسمت وہ شخص ہے جو ان باتوں کو نہیں مانتا جو خدا کے منہ سے نکلیں اور میں نے بیان کیں۔تم اگر چاہتے ہو کہ آسمان پر تم سے خد اراضی ہو تو تم با ہم ایسے ایک ہو جاؤ جیسے ایک پیٹ میں سے دو بھائی تم میں سے زیادہ بزرگ وہی ہے جو زیادہ اپنے بھائی کے گناہ بخشتا ہے۔اور بد بخت ہے وہ جو ضد کرتا ہے اور نہیں بخشا۔تم نیچے دل سے اور پورے صدق سے اور سرگرمی کے قدم سے خدا کے دوست بنو تا وہ بھی تمہارا دوست بن جائے۔تم ماتحتوں پر اور اپنی بیویوں پر اور اپنے غریب بھائیوں پر رحم کرو تا آسمان پر تم پر بھی رحم ہو۔تم سچ مچ اس کے ہو جاؤ تا وہ بھی تمہارا ہو جائے“۔(کشتی نوح روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۱۲-۱۳ پھر آپ نے فرمایا : ” خدا تعالیٰ کی تجلیات اور رحمتوں کے ظہور کے لئے دعا کی بہت بڑی ضرورت ہے۔اس لئے اس پر ہمیشہ کمر بستہ رہو اور کبھی مت تھکو۔غرض اصلاح نفس کے لئے اور خاتمہ بالخیر ہونے کے لئے نیکیوں کی توفیق پانے کے واسطے دوسرا پہلو دعا کا ہے۔اس میں جس قدر تو کل اور یقین اللہ تعالیٰ پر کرے گا اور اس راہ میں نہ بہکنے والا قدم رکھے گا۔اسی قدر عمدہ نتائج اور ثمرات ملیں گے۔تمام مشکلات دور ہو جائیں گی اور دعا کرنے والا تقویٰ کے اعلی محل پر پہنچ جاوے گا۔یہ بالکل سچی بات ہے کہ جب تک خدا تعالیٰ کسی کو پاک نہ کرے کوئی پاک نہیں ہوسکتا۔نفسانی جذبات پر محض خدا تعالیٰ کے فضل اور جذبہ ہی سے موت آتی ہے۔اور یہ فضل اور جذ بہ دعا ہی سے پیدا ہوتا ہے۔اور یہ طاقت صرف دعا ہی سے ملتی ہے۔پھر آپ نے فرمایا: ( تفسیر حضرت موعود جلد اول صفحه (٦٥٨ تقویٰ کے دو درجے ہیں۔بدیوں سے بچنا اور نیکیوں میں سرگرم ہونا۔دوسرا مرتبہ حسنین کا ہے۔اس درجے کے حصول کے بغیر اللہ تعالیٰ خوش نہیں ہوسکتا اور یہ مقام اور درجہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر حاصل بھی نہیں ہو سکتا۔جب انسان بدی سے پر ہیز کرتا ہے اور نیکیوں کے لئے اس کا دل تڑپتا ہے اور وہ خدا تعالیٰ سے دعائیں کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس کی دستگیری کرتا ہے اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے دارالامان میں پہنچا دیتا ہے ( یعنی امن کی جگہ پہنچادیتا ہے )۔