خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 544
544 $2003 خطبات مسرور ساتھ۔تو کہنے لگا آخر میں یہی ہوگا کہ اس دوست کو آواز دوں گا کہ تمہارا کتا مجھے آنے نہیں دے رہا تم میری جان چھڑاؤ اس سے۔تو اس بزرگ نے کہا کہ یہی شیطان کا حال ہے۔شیطان بھی اللہ میاں کا کتا ہے۔جب انسان پر بار بار حملہ آور ہو اور اس کو اللہ تعالیٰ کے قریب نہ ہونے دے تو اس کا یہی علاج ہے کہ اللہ تعالیٰ کو پکارو اور اسے آواز دو کہ اے اللہ ! میں آپ کے پاس آنا چاہتا ہوں مگر آپ کا یہ کتا مجھے آنے نہیں دیتا۔اسے رو کئے تاکہ میں آپ کے پاس پہنچ جاؤں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ اسے روک دے گا اور انسان شیطان کے حملے سے محفوظ ہو جائے گا۔تو فرماتے ہیں کہ غرض طہارت کامل جس کے بعد کوئی ارتداد اور فسق نہیں ہوتا محض اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحم کے ساتھ حاصل ہوتی ہے۔پہلے انسان آپ پاک ہو جائے۔اللہ تعالیٰ سے اس کا فضل مانگے ، اس کے آگے روئے ، گڑ گڑائے کہ مجھے شیطان سے بچا تو پھر اللہ تعالیٰ کا فضل بھی شامل حال ہو جاتا ہے اور پھر فرمایا کہ یہ چیزیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے حاصل ہوتی ہے جسے انسانی دعا ئیں اپنی طرف کھینچتی رہتی ہیں۔تو یہ ہے شیطان سے بچنے کا طریقہ کہ شیطان سے بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگو اور صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے حضور گڑ گڑاؤ اور غیر اللہ سے دل نہ لگاؤ۔پھر حدیث میں شیطان کے حملوں سے بچنے کے لئے یہ دعا سکھائی ہے۔حضرت زید بن صلى الله ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔فرمایا کیا میں تمہیں ایک ایسی دعانہ بتاؤں جو ہمیں رسول اللہ سے سکھایا کرتے تھے۔وہ یہ دعا تھی کہ اے اللہ ! میں عاجز آجانے ،ہستی ، بخل، بزدلی، انتہائی بڑھاپے اور عذاب قبر سے تیری پناہ میں آنا چاہتا ہوں۔اے میرے اللہ میرے نفس کو اس کا تقویٰ عطا کر۔وَذَرِّهَا وَأَنْتَ خَيْرُ مَنْ زَكَّهَا﴾ اور اس کو نفس کو پاک کر اور تو ہی بہترین پاک کرنے والا ہے۔انسان کو پاک کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں ہی ہوں جسے چاہتاہوں پاک کرتا ہوں تو اس کا ولی اور اس کا مولیٰ ہے۔اے اللہ ! میں ایسے دل سے تیری پناہ مانگتا ہوں جو خشوع اختیار نہیں کرتا اور ایسے دل سے جو بھی سیر نہیں ہوتا اور ایسے علم سے جو نفع نہیں دیتا۔اور ایسی دعا سے جو قبول نہ ہو۔(سنن نسائی کتاب الاستعاذه باب الاستعاذه من العجز اب یہ بھی ایک بڑی جامع دعا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہے جو پاک کرتی ہے اور پاک رکھتی ہے، شیطان کے حملوں سے بچاتی ہے۔کوئی شخص اپنے زور بازو سے کبھی بھی پاک