خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 543
$2003 543 خطبات مسرور تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ۔اگر دعاؤں کی طرف توجہ نہیں ہوگی تو شیطان مختلف طریقوں سے مختلف راستوں سے آکر ورغلاتا رہے گا اور اس سے اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحمت کے بغیر نہیں بچا جا سکتا، جیسے کہ میں پہلے بیان کرتا آرہا ہوں۔اللہ تعالیٰ اسے ہی بات کرتا ہے جو پیشگی اس سے دعائیں مانگے اور جس پر اس کی رحمت ہو۔اور یہ رحمت اس وقت اور بھی بہت بڑھ جاتی ہے جب اللہ تعالیٰ کی محبت دل میں پیدا ہو جائے۔حضرت مصلح موعوددؓ فرماتے ہیں ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے اپنی تفسیر میں۔کہ ایک بزرگ تھے جن کے پاس ان کا شاگرد کافی عرصہ رہا اور تعلیم حاصل کرتا رہا۔جب وہ تعلیم سے فارغ ہو کر اپنے گھر جانے لگا تو اس بزرگ نے اس سے دریافت کیا کہ میاں تم اپنے گھر جارہے ہو کیا تمہارے ملک میں شیطان ہے؟ وہ یہ سوال سن کر حیران رہ گیا۔اور اس نے کہا شیطان بھلا کہاں نہیں ہوتا۔ہر ملک میں شیطان ہوتا ہے اور جہاں میں جارہا ہوں وہاں بھی شیطان موجود ہے۔آپ نے فرمایا اچھا۔اگر وہاں شیطان ہے تو پھر جو کچھ تم نے میرے پاس رہ کر علم حاصل کیا ہے جب اس پر عمل کرنے لگو گے تو لازماً شیطان تمہارے رستہ میں روک بن کر حائل ہوگا۔ایسی حالت میں تم کیا کرو گے؟ وہ کہنے لگا میں شیطان کا مقابلہ کروں گا، اس سے لڑوں گا۔وہ بزرگ کہنے لگے بہت اچھا تم نے شیطان کا مقابلہ کیا اور وہ تمہارے دفاع کی تاب نہ لا کر بھاگ گیا۔لیکن جب پھر تم عمل شروع کرو گے وہ حملہ کرے گا تو پھر کیا کرو گے۔انہوں نے کہا پھر میں شیطان کا مقابلہ کروں گا۔پھر اگر وہ دوڑ جائے گا پھر عمل کرنے لگو گے تو پھر آ جائے گا۔جب دو تین دفعہ اس نے پوچھا تو شاگرد نے کہا کہ مجھے تو سمجھ نہیں آئی آپ مجھے بتائیں میں کس طرح مقابلہ کروں۔جب میں مقابلہ کرنے لگوں گا تو شیطان دوڑ جائے گا۔جب میں عمل کرنے لگوں گا تو شیطان پھر آجائے گا۔تو بزرگ نے کہا کہ اگر تم اپنے کسی دوست کے گھر جاؤ اور اس کے دروازے پر ایک کتا بندھا ہواور وہ تمہیں کاٹنے کو پڑ جائے تو تم کیا کرو گے۔اس نے کہا میں اس کا مقابلہ کروں گا جو میرے ہاتھ میں سوٹی ہے، چھڑی ہے یا زمین پر کوئی روڑہ پتھر نظر آئے تو اس کو ماروں گا اور اس کو بھگا دوں گا۔اس نے کہا ٹھیک ہے دوڑ گیا۔پھر جب تم اس کے دروازے میں داخل ہونے لگو پھر تمہاری ٹانگ پکڑ لے گا تو پھر کیا کرو گے۔کہا پھر میں اسی طرح ماروں گا۔تو دو تین دفعہ جب انہوں نے پوچھا کہ کیا کرو گے کتے کے