خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 537
$2003 537 خطبات مسرور سے۔انسان اُس سے باہر چلا جاتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ کوئی حرج نہیں مگر ہوتے ہوتے وہ اتنا دور چلا جاتا ہے کہ پھر اس کا واپس لوٹنا مشکل ہو جاتا ہے۔اور شیطان کے پنجے میں گرفتار ہو کر تباہ ہو جاتا ہے۔جھوٹے الزامات کے ذکر کے ساتھ یہ نصیحت فرمائی کہ اس طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ تم یہ نہ کہنا کہ یہ معمولی بات ہے کیا ہوا اگر کسی پر ہم نے زنا کا الزام لگا دیا۔یا یہ کہ ہم نے تو نہیں لگایا کسی نے ہمیں بات سنائی اور ہم نے آگے سنادی۔شیطان کا یہی طریق ہے۔وہ پہلے اپنے پیچھے چلاتا اور آہستہ آہستہ روحانیت اور شریعت کے قلعہ سے دور لے جاتا ہے اور جب انسان دور چلا جاتا ہے تو اس کو مارڈالتا ہے۔پس شیطان پہلے تو یہی کرے گا کہ تحریک کرے گا کہ دوسرے کی کہی ہوئی بات بیان کرد و، تمہارا اس میں کیا حرج ہے۔لیکن جب تم ایسا کر لو گے تو پھر خود تمہارے منہ سے ایسی باتیں نکلوائے گا جب یہ بھی کر لو گے تو پھر اس فعل کا تم سے ارتکاب کر والے گا۔پس تم پہلے ہی اس کے پیچھے نہ چلو اور پہلے ہی قدم پر اس کی بات کو رد کر دو تا کہ تم تباہی سے بچو، محفوظ رہو۔اور اس رد کرنے کے لئے بھی اللہ تعالیٰ کی مدد کی ، اس کے فضل کی ضرورت ہے۔اس لئے ہمیں نمازوں کے ذریعہ سے، استغفار کے ذریعہ سے اس کی مدد مانگتے رہنا چاہئے۔پانچ وقت نمازوں کا حکم دے کر اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہی راستہ سکھایا ہے کہ شیطان سے بچنے کے لئے پانچ وقت میرے حضور حاضر ہو اور میر افضل مانگو تو انشاء اللہ تعالیٰ اس سے محفوظ رہو گے، بہت ساری برائیاں تمہارے اندر نہیں جائیں گی۔کیونکہ شیطان تو جسم کے اندر ہر وقت موجود ہے۔جیسا کہ اس حدیث سے ظاہر ہے۔حضرت جابر روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ علیہ نے فرمایا کہ ایسی عورتوں کے ہاں نہ جاؤ جن کے خاوند غائب ہوں کیونکہ شیطان انسان کی رگوں میں خون کی مانند دوڑتا ہے۔(سنن دارمی کتاب الرقاق باب الشيطاني جرى مجرى الدم اب اس حدیث کی روشنی میں صرف اتنا ہی نہیں کہ ایسے گھروں میں نہ جاؤ جس گھر میں مرد نہ ہوں بلکہ ایک رہنما اصول بتا دیا ہے کہ نامحرم کبھی آپس میں اس طرح آزادانہ اکٹھانہ ہوں جس سے شیطان کو حملہ کرنے کا موقعہ مل جائے۔بعض اور جگہ بھی اس بارہ میں احادیث ہیں جن میں سخت تنبیہ کی گئی ہے کہ اس طرح مرد عورت اکٹھے نہ ہوں۔اب آج کل کے زمانہ میں دیکھ لیں، کالجوں یو نیورسٹیوں میں ابتدا میں دوستی ہوتی ہے لڑکے لڑکی کی اور کہا یہ جاتا ہے کہ بس صرف دوستی ہے،