خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 536 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 536

536 $2003 خطبات مسرور طرف صرف ایک قدم اٹھانے کی ترغیب دیتا ہے۔اور جب وہ ایک قدم اٹھا لیتا ہے تو پھر دوسرا قدم اٹھانے کی تحریک کرتا ہے۔اس طرح آہستہ آہستہ اور قدم بقدم اسے بڑے گناہوں میں ملوث کر دیتا ہے۔پس فرماتا ہے ہم تمہیں نصیحت کرتے ہیں کہ تمہارا صرف چندا حکام پر عمل کر کے خوش ہو جانا اور باقی احکام کو نظر انداز کر کے سمجھ لینا کہ تم پکے مسلمان ہو ایک شیطانی وسوسہ ہے۔اگر تم اسی طرح احکام الہیہ کو نظر انداز کرتے رہے تو رفتہ رفتہ جن احکام پر تمہارا اب عمل ہے ان احکام پر بھی تمہارا عمل جاتا رہے گا۔پس اپنے اعمال کا جائزہ لیتے رہو۔اور شیطانی وساوس سے ہمیشہ بچنے کی کوشش کرو۔“ (تفسیر کبیر جلد دوم صفحه ٤٥٧) پھر آپ اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ : ”اے مومنو! تم شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو۔اس لئے کہ جو شخص شیطان کے قدموں کے پیچھے چلے گا وہ بدی اور بدکاری میں مبتلا ہو جائے گا۔کیونکہ شیطان فحشاء اور منکر کا حکم دیتا ہے۔اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ ہر برائی جو دنیا میں پھیلتی ہے اس کی ابتداء بھیا نک نہیں ہوتی۔شیطان کا یہ طریق نہیں کہ کوئی خطرناک بات کرنے کے لئے ابتداء میں ہی انسان کو تحریک کرے۔کیونکہ انسان کی فطرت میں حیاء و شرم کا مادہ رکھا گیا ہے اس لئے جس کام کو انسان صریح طور پر برا سمجھے اس کو فوری طور پر کرنے کے لئے وہ تیار نہیں ہوتا۔مثلاً شیطان اگر کسی کو سیدھا ہلاکت کی طرف لے جانا چاہے تو وہ نہیں جائے گا، ہاں چکر دے کر لے جائے تو چلا جائے گا۔پس شیطان پہلے ہی کسی بڑی بدی کی تحریک نہیں کرتا بلکہ پہلے چھوٹی برائی کی جو بظاہر برائی نہ معلوم ہوتی ہو تحریک کرتا ہے۔پھر اس سے آگے چلاتا ہے، پھر اس سے آگے، حتی کہ خطر ناک برائی تک لے جاتا ہے۔گویا شیطان پہلے ہی گڑھے کے سرے پر لے جا کر انسان کو نہیں کہتا کہ اس میں کو د پڑو بلکہ پہلے گھر سے دور لے جاتا ہے۔(اس کی مثال دیتے ہوئے فرماتے ہیں ) جس طرح ڈا کو گھر کے پاس حملہ نہیں کرتے یا جو لوگ بچوں کو قتل کرتے ہیں وہ گھر کے پاس نہیں کرتے بلکہ ان کو دھو کہ اور فریب سے دور لے جاتے ہیں۔کہتے ہیں آؤ تمہیں مٹھائی کھلا ئیں اور جب شہر یا گاؤں سے باہر لے جاتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اب کوئی دیکھنے والا نہیں تو گلا گھونٹ کر مار دیتے ہیں۔( یہاں بھی ایسے کئی واقعات ہوتے ہیں آپ پڑھتے ہیں اخباروں میں ) یہی طریق شیطان کا ہوتا ہے۔وہ پہلے انسان کو اس قلعہ سے نکالتا ہے جہاں خدا نے انسان کو محفوظ کیا ہوا ہوتا ہے۔یعنی فطرت صحیحہ کے قلعہ