خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 535 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 535

535 $2003 خطبات مسرور پیدا کروں گا تا کہ وہ سیدھے راستے سے بھٹکتے رہیں۔مختلف طریقوں سے انسانوں کو ورغلانے کی کوشش کرتا رہوں گا۔اگر ایک دفعہ میرے ہاتھ سے نکل بھی جائیں تو میں لگا تار حملے کرتا رہوں گا کیونکہ میں تھک کر بیٹھنے والا نہیں ہوں۔میں دائیں سے بھی حملہ کروں گا، میں بائیں سے بھی حملہ کروں گا، پیچھے سے بھی حملہ کروں گا، سامنے سے بھی حملہ کروں گا۔اللہ تعالیٰ کو اس نے ایک طرح کا چیلنج دیا تھا کہ ایسے ایسے طریقوں سے حملہ کروں گا کہ ان میں سے بہتوں کو تو شکر گزار نہیں پائے گا۔تو خیر وہ تو اللہ تعالیٰ نے اس کو جواب دیا لیکن دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ ناشکر گزارلوگ ہوتے ہیں تو واضح ہو گیا کہ وہ شیطان کے قدموں پر چلنے والے ہیں۔اور شیطان کے قدموں پر حکم بھی ہے کہ نہ چلو تو اس کا حکم کیا ہے۔جیسا کہ واضح ہے کہ شیطان کا راستہ اختیار نہ کرو۔ان باتوں پر عمل نہ کر وجو شیطان کے رستے کی طرف لے جانے والی ہیں۔جب انسان مومن بھی ہو، پتہ بھی ہو کہ شیطان کا راستہ کون سا ہے اور پھر یہ بھی پتہ ہو کہ شیطان کا راستہ انتہائی بھیانک راستہ ہے۔یہ مجھے تباہی کے گڑھے کی طرف لے جائے گا تو پھر کیوں ایسا شخص جو ایک دفعہ ایمان لے آیا ہوشیطان کے راستے کو اختیار کرے گا اور اپنی تباہی کے سامان پیدا کرے گا۔کوئی عقل والا انسان جس نے ایمان بھی دیکھ لیا ہو، جانتے بوجھتے ہوئے کبھی بھی اپنے آپ کو اس تباہی میں نہیں ڈالے گا۔تو پھر کیوں مومنین کو یہ تنبیہ کی گئی ہے کہ شیطان کے راستے پر مت چلو، اس سے بچتے رہو۔تو ظاہر ہے یہ وارننگ، یہ تنبیہ اس وجہ سے دی گئی ہے جیسا کہ میں نے پہلے بھی بتایا ہے کہ شیطان نے کھلے طور پر آدم کو، اس کی اولا د کو چیلنج دے دیا تھا کہ میں تمہیں ورغلاتا رہوں گا اور ایسے ایسے طریقوں سے ورغلاؤں گا، اور ایسی ایسی جہتوں سے حملہ کروں گا کہ تمہیں پتہ بھی نہیں چلے گا کہ ہو کیا گیا ہے۔اور یہ حملے ایسے پلاننگ سے اور آہستہ آہستہ ہوں گے کہ تم غیر محسوس طریق پر یہ راستہ اختیار کرتے چلے جاؤ گے میرا مسلک اختیار کرتے چلے جاؤ گے۔ایک دوسری جگہ بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوَاتِ الشَّيْطَنِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِين تم شیطان کے پیچھے نہ چلو کیونکہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں:۔اس آیت میں خُطُوَاتِ کا لفظ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرنے کے لئے استعمال کیا گیا ہے کہ شیطان ہمیشہ قدم بقدم انسان کو گمراہی کی طرف لے جاتا ہے۔وہ کبھی یکدم کسی انسان کو بڑے گناہ کی تحریک نہیں کرتا بلکہ اسے بدی کی