خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 523
$2003 523 خطبات مسرور پھر حضرت معاذ بن جبل بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جہاں بھی تم ہو اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو۔اگر کوئی برا کام کر بیٹھو تو اس کے بعد نیک کام کرنے کی کوشش کرو۔یہ نیکی بدی کو مٹا دے گی۔اور لوگوں سے خوش اخلاقی اور حسن سلوک سے پیش آؤ۔(ترمذی ابواب البر والصلة باب ماجاء في ما معاشرة الناس) ابو بردہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ابو موسیٰ اور معاد بن جبل کو یمن کی طرف والی بنا کر بھیجا۔آپ نے ہر ایک کو ایک ایک حصہ کا والی مقرر کر کے بھیجا ( یمن کے دو حصے تھے )۔پھر فرمایا: آسانی پیدا کرنا، مشکلیں پیدا نہ کرنا۔محبت و خوشی پھیلانا اور نفرت نہ پہنچنے دینا۔(بخاری ، کتاب المغازی، باب بعث ابى موسى ومعاذ الى اليمن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے میری اس کوٹھڑی میں فرمایا: یا اللہ! جوکوئی میری امت کا حاکم ہو پھر وہ ان پر سختی کرے تو تو بھی اس پر سختی کرنا اور جو کوئی میری امت کا حاکم ہو اور وہ ان پر نرمی کرے تو تو بھی اس سے نرمی فرمانا۔(صحيح مسلم كتاب الامارة باب فضيلة الامام العادل اصل میں تو امراء، صدران ، عہد یداران یا کارکنان جو بھی ہیں ان کا اصل کام تو یہ ہے کہ اپنے اندر بھی اور لوگوں میں بھی نظام جماعت کا احترام پیدا کیا جائے۔اور اسی طرح جماعت کے تمام افراد کا بھی یہی کام ہے کہ اپنے اندر بھی اور اپنی نسلوں میں بھی جماعت کا احترام پیدا کریں۔نظام جماعت کا احترام پیدا کریں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا تھا کہ جو نصائح میں عہد یداران کے لئے کرتا ہوں اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ صرف عہدیداران کے لئے ہیں بلکہ تمام افراد جماعت مخاطب ہوتے ہیں اور ان کو بھی یہ نصائح ہیں۔ہو سکتا ہے کہ کل کو ایک عہدیدار کے ایک جگہ سے دوسری جگہ چلے جانے کی وجہ سے، یا بیمار ہو جانے کی وجہ سے، یا بڑھاپے کی وجہ سے، یا فوت ہو جانے کی وجہ سے کوئی دوسرا شخص اس عہدے کے لئے مقرر کر دیا جائے۔پھر انتخابات بھی ہوتے ہیں، عہدے بدلتے بھی رہتے ہیں۔تو ہر ایک کو اپنے ذہن میں یہ سوچ رکھنی چاہئے کہ جب بھی وہ عہد یدار بنیں گے وہ ایک خادم کے طور پر خدمت کرنے کے لئے بنیں گے۔بعض دفعہ یہ ہوتا ہے کہ عہد یدار بدلے بھی جاتے ہیں، خلیفہ وقت خود بھی اپنی مرضی سے بعض عہدوں کو تبدیل کر دیتے ہیں۔تو بہر حال نئے