خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 518
خطبات مسرور صل الله 518 $2003 طرف سے آرہی ہوتی ہیں۔تو اگر ہر لیول پر اس نگرانی کا صحیح حق ادا نہیں ہورہا ہوگا تو پھر آنحضرت نے تنبیہ فرما دی ہے کہ اگر تم بطور نگران اپنے فرائض کی ادائیگی نہیں کر رہے تو تم پوچھے جاؤ گے۔اللہ تعالیٰ کے حضور مجرم کی حیثیت سے حاضر ہونا اور پوچھے جانا بذات خود ایک خوف پیدا کرنے والی بات ہے لیکن یہاں جو فرمایا کہ یہ نہ سمجھو کہ تم پوچھے جاؤ گے اور شاید نرمی کا سلوک ہو جائے اور جان بچ جائے بلکہ فرمایا کہ جنت ایسے لوگوں پر حرام کر دی جائے گی۔پس بڑا شدید انذار ہے، خوف کا مقام ہے، رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہر عہد یدار کو ذمہ داریاں نبھانے کی توفیق عطا فرمائے۔یہ بات بھی یاد رکھنی ضروری ہے کہ ذیلی تنظیموں کی عاملہ ہو، لجنہ ، انصار، خدام کی یا جماعت کی عاملہ کسی شخص کے بارہ میں جب کوئی رائے قائم کرنی ہو تو اس بارہ میں جلدی نہیں کرنی چاہئے۔چاہے اس شخص کے گزشتہ رویہ کے بارہ میں علم ہو کہ کوئی بعید نہیں کہ اس نے ایسی حرکت کی ہو اس لئے اس کو سزا دے دو یا سزا کی سفارش کر دو نہیں، بلکہ جو معاملہ عاملہ کے سامنے پیش کیا ہے اس کی مکمل تحقیق کریں۔اگر شک کا فائدہ مل سکتا ہے تو اس کو ملنا چاہئے جس پر الزام لگ رہا ہے۔اگر وہ شخص مجرم ہے تو شاید اس کو یہ احساس ہو جائے کہ گومیں نے جرم تو کیا ہے لیکن شک کی وجہ سے مجھ سے صرف نظر کیا گیا ہے۔تو آئندہ اس کی اصلاح بھی ہو سکتی ہے یا کم از کم مجلس عاملہ یا ایسے عہد یدار اس حدیث پر تو عمل کرنے والے ہوں گے جو حضرت عائشہؓ سے روایت ہے۔بیان کرتی ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا مسلمان کو سزا سے بچانے کی حتی الامکان کوشش کرو۔اگر اس کے بچنے کی کوئی راہ نکل سکتی ہو تو معاملہ رفع دفع کرنے کی سوچو۔امام کا معاف اور درگزر کرنے میں غلطی کرنا سزا دینے میں غلطی کرنے سے بہتر ہے۔(ترمذی ابواب الحدود۔باب ما جاء في درء الحدود) پھر ایک حدیث ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص مسلمانوں کے اجتماعی معاملات کا ذمہ دار ہو اللہ اس کی حاجات اور مقاصد پورے نہیں کرے گا جب تک وہ لوگوں کی ضروریات پوری نہ کرے۔(ترغيب وترهيب كتاب القضاء باب ترغيب من ولى۔۔۔۔۔۔)