خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 48
48 $2003 خطبات مسرور حضرت علی بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: عنقریب ایسا زمانہ آئے گا کہ نام کے سوا اسلام کا کچھ باقی نہیں رہے گا۔الفاظ کے سوا قر آن کا کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔اس زمانہ کے لوگوں کی مسجدیں بظاہر تو آباد نظر آئیں گی لیکن ہدایت سے خالی ہوں گی۔ان کے علماء آسمان کے نیچے بسنے والی مخلوق میں سے بدترین مخلوق ہوں گے۔ان میں سے ہی فتنے اٹھیں گے اور ان میں ہی لوٹ جائیں گے یعنی تمام خرابیوں کا وہی سر چشمہ ہوں گے۔(مشکوۃ کتاب العلم الفصل الثالث) اور یہی کچھ آج کل ہم دیکھ رہے ہیں۔پھر فرمایا۔حضرت حذیفہ بن یمان سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسلام اس طرح مدھم ہو جائے گا جس طرح کپڑے پر بنے ہوئے نقوش مدھم ہو جاتے ہیں یہاں تک کہ کسی کو یہ معلوم نہ ہوگا کہ روزے کیا ہیں؟ نماز کیا ہے؟ قربانی کیا ہے؟ اور صدقہ کیا ہے؟۔اور کتاب اللہ پر ایک ایسی رات آئے گی کہ اس کی ایک آیت بھی زمین پر نہ رہے گی۔اور زمین پر لوگوں کے طبقات رہ جائیں گے۔ایک بوڑھا شخص اور ایک بوڑھی عورت کہے گی ہم نے تو اپنے آبا ء واجداد کو کلمہ لا إله إلا اللہ پر پایا اس لئے ہم بھی یہ کلمہ پڑھتے ہیں۔(ابن ماجہ کتاب الفتن۔باب ذهاب القرآن والعلم ) یعنی کہ عمل کوئی نہیں رہے گا۔ظاہری طور پر عمل تو کریں گے لیکن اس کی روح قائم نہیں رہے گی۔پھر امت مسلمہ کے یہود و نصاری کی اتباع کرنے کی خبر۔حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اے مسلمانو! تم ضرور بضر ور اپنے سے پہلے لوگوں کی عادات کی پیروی کرو گے۔اس طرح جیسے بالشت بالشت کے برابر اور باز و بازو کے برابر ہوتا ہے۔یہاں تک کہ اگر وہ لوگ گوہ کے سوراخ میں داخل ہوئے تھے تو تم بھی ضرور اس میں داخل ہو گے۔ہم نے عرض کیا۔اے اللہ کے رسول ! پہلے لوگوں سے مراد یہودی اور عیسائی ہیں؟ آپ نے فرمایا تو اور کون؟ (بخاری کتاب احاديث الانبياء، باب ما ذكر عن بنى اسرائيل ایک روایت ہے کہ حضرت انس بن مالک روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بنی اسرائیل اے فرقوں میں بٹ گئے تھے ان میں سے ۷۰ فرقے ہلاک ہو گئے اور ایک فرقہ