خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 506
$2003 506 خطبات مسرور حضرت عمر و بن عبسہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ (ہمارا ) رب رات کے درمیانی حصے میں بندے کے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے۔پس اگر تم سے ہو سکے تو اس گھڑی تو اللہ کا ذکر کرنے والوں میں سے بن جائے تو ضرور بن“۔(سنن الترمذى كتاب الدعوات باب في دعا الضيف) تو رمضان کے دنوں میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ عادت ہمیں پڑ گئی کہ رات کو اٹھے اور تہجد کی نماز ادا کی، نوافل پڑھے۔اگر ہم اس عادت کو با قاعدہ کر لیں اور جاری رکھیں تو اس حدیث کے مطابق اللہ تعالیٰ کے ہم بہت قریب ہوں گے۔اور اللہ تعالیٰ کے قریب ہونے کا مطلب یہی ہے کہ آپ نے سب کچھ پالیا۔تو دعاؤں کے ساتھ پھر ایک بات یہ ہے کہ دعاؤں کے ساتھ ، عبادات کے ساتھ جمعہ کے دن کا بھی ایک خاص تعلق ہے۔اس دن میں اللہ تعالیٰ نے ایک ایسا وقت رکھا ہوا ہے جس میں بندے کی دعاسنی جاتی ہے اور پھر اس دور کا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ - والسلام کے دور کا، اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا جمعہ کے ساتھ ایک خاص تعلق ہے۔تو جمعہ کو بھی ہمیں خاص اہتمام سے منانا چاہئے۔بعض ایسی دعائیں ہیں، جماعتی دعائیں ان کے لحاظ سے بھی خاص طور پر اس طرف توجہ کرنی چاہئے۔نوافل کے لئے بھی ، گھر کے ہر فرد کو اٹھنا چاہئے۔جمعہ پڑھنے کے لئے تمام مردوں کو ضرور جانا چاہئے ، کوشش کر کے بھی اور مساجد میں جمعوں کی حاضریاں بھی ایسی ہی ہونی چاہئیں جیسے رمضان میں ہوتی تھیں۔جیسا کہ حدیث میں آتا ہے حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ: جمعہ کے دن ایک ایسی گھڑی بھی آتی ہے جس میں مسلمان اللہ تعالیٰ سے جو بھی بھلائی مانگتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو عطا کرتا ہے اور وہ گھڑی بڑی مختصر ہوتی ہے۔(مسلم کتاب الجمعه باب فى الساعة التي في يوم الجمعة) تو دعا کی طرف ہر وقت توجہ دیتے رہنا چاہئے۔کیا پتہ کس وقت وہ گھڑی آجائے جو قبولیت دعا کی گھڑی ہو، قبولیت دعا کا وقت ہو۔تو ان تڑپنے والے دلوں کو جو پاکستان میں مختلف جگہوں سے، حالات کی وجہ سے جذبات کا اظہار کرتے ہیں، میں یہ کہتا ہوں کہ جمعوں کی رونق بڑھائیں۔اللہ تعالیٰ کے حضور جذبات کا اظہار کریں۔اور جب پورے یقین کے ساتھ اس سے مانگیں گے اور اس