خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 505 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 505

$2003 505 خطبات مسرور سے لا پرواہی برتی ، تو دشمن پھر حملہ کرے گا، شیطان پھر حملہ کرے گا۔اس لئے اس قلعہ میں آپ کے لئے مسلسل دعاؤں اور عبادات کی ضرورت ہے۔اب مسلسل دعائیں کرتے رہیں گے، عبادات کرتے رہیں گے تو پھر اس مضبوط قلعہ میں رہ سکتے ہیں۔اللہ سے مدد مانگنے کی ضرورت ہے، اس میں کمزوری نہیں آنی چاہئے۔اللہ سے مدد مانگتے ہوئے، اس کا فضل مانگتے ہوئے،اب اس میں با قاعدگی قائم رہنی چاہئے جو رمضان میں ہم سب تجربہ کر چکے ہیں، اور اس سے لطف اٹھا چکے ہیں۔حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ آنحضرت ﷺ نے کہا : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو شخص کوئی نیکی کرتا ہے اس کو دس گنا بلکہ اس سے بھی زیادہ ثواب میں دوں گا۔اگر وہ برائی کرتا ہے تو اس کو اس برائی کے برابر سزا دوں گا یا اسے بخش دوں گا۔اور جو شخص ایک بالشت میرے قریب ہوتا ہے میں ایک گز اس کے قریب ہوتا ہوں اور جو ایک گز میرے قریب ہوتا ہے میں دو گز اس کے قریب ہوتا ہوں۔اور جو میرے پاس چلتے ہوئے آتا ہے تو میں اس کے پاس دوڑے ہوئے جاتا ہوں۔اگر کوئی شخص دنیا بھر کے گناہ لے کر میرے پاس آئے بشرطیکہ اس نے میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو تو میں اس کے ساتھ اتنی ہی بڑی مغفرت اور بخشش سے پیش آؤں گا اور اسے معاف کر دوں گا“۔(مسلم) كتاب الذكر والدعاء باب فضل الذكر والدعاء) تو یہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں تحریص دلائی ہے کہ اس طرح میں معاف کیا کرتا ہوں۔اب یہ نہیں کہ بار بار معافی مانگو اور بار بار غلط کام کرتے چلے جاؤ اور میریے نافرمانی کرتے چلے جاؤ۔تو ہم میں سے جنہوں نے بھی اس رمضان سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اللہ کی مغفرت اور بخشش سے فائدہ اٹھایا ہے اور اللہ تعالیٰ نے جن فضلوں کے دروازوں کو ہم پر کھولا ہے، ہمارا کام ہے کہ اب اللہ کے فضلوں کو مانگتے ہوئے اسی التزام کے ساتھ اسی با قاعدگی کے ساتھ اس کے سامنے جھکتے ہوئے ان مغفرت اور بخشش کے دروازوں کو بند نہ ہونے دیں۔ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے دروازے ہم پر کھلے رہیں اور ہماری کمزوری کی وجہ سے ہمارے قریب پہنچی ہوئی منزلیں کہیں ہم سے پھر دور نہ ہو جائیں، کہیں ہم راستے میں ہی تھک کر بیٹھ نہ جائیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دیتا رہے کہ جس طرح عبادات بجا لانے کا حق ہے اسی طرح عبادات بجالاتے رہیں۔