خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 500 of 624

خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 500

$2003 500 خطبات مسرور ہونٹوں کے ذریعہ سے باہر نکلے اور اللہ سے مدد مانگی جارہی ہو تو نہ صرف عام فوائد دینی و دنیاوی حاصل ہوتے ہیں بلکہ ایسے لوگوں سے ٹکرانے والے، ایسے اللہ والوں کو تنگ کرنے والے، چاہے وہ لوگ ہوں یا حکومتیں ہوں وہ بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتی ہیں ، پاش پاش ہو جاتی ہیں۔ہمارا خدا تو وہ خدا ہے جو صد ہے، بہت اونچی شان والا ہے، بہت طاقتوں کا مالک خدا ہے، وہ مضبوط سہارا ہے جس کے ساتھ جب کوئی چھٹ جائے تو وہ اس کی پناہ بن جاتا ہے۔وہ ایسا سہارا ہے جو اپنے ساتھ چمٹانے کے لئے ہمیں محفوظ کرنے کے لئے ہمیں آواز میں دے رہا ہے کہ میرے بندو خالص ہو کر میرے پاس آؤ، میری پناہ گاہ میں پناہ لو، دشمن تمہارا بال بھی بیکا نہیں کرسکتا۔تو جب ہمارا خدا، ہمارا پیارا خدا، ہمیں اتنی یقین دہانیاں کروا رہا ہے تو پھر ہم کس طرح اس سے مانگنے ، اس کی طرف جھکنے، اس سے دعا کرنے کے مضمون کو چھوڑ سکتے ہیں۔جماعت احمدیہ کو تو جماعتی اور دنیا کے حالات کو دیکھتے ہوئے پہلے سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی طرف جھکنے کی ضرورت ہے۔اس آیت میں جو میں نے پڑھی ہے، اللہ تعالیٰ نے تو کہہ دیا ہے کہ میں مضطر کی دعا کو سنتا ہوں، بے قرار دل کی دعا کو قبول کرتا ہوں۔اس لحاظ سے بہت دعاؤں کی ضرورت ہے اور یہ ہمارے لئے ہی ہے کہ مضطر کا مطلب صرف بے قرار ہی نہیں ہے بلکہ ایسا شخص ہے جس کے سب راستے کٹ گئے ہوں۔تو اس وقت صرف جماعت احمدیہ ہی ہے جس کے کوئی دنیاوی واسطے اور راستے نہیں ہیں۔اس معاشرہ میں رہتے ہیں اس لئے جب تنگیاں آتی ہیں تو جو بھی متعلقہ حکام ہوتے ہیں اور مختلف ذرائع ہیں ان کو آگاہ ہم ضرور کرتے ہیں لیکن کبھی ان کو خدا نہیں بناتے۔کیونکہ ہمیں تو ہمارے خدا نے ، ہمارے زندہ خدا نے یہ بتا دیا ہے کہ جب بھی تمہیں میری ضرورت ہو بلکہ ہر وقت ، جب تم امن کی حالت میں ہو، بظاہر امن کی حالت میں بھی ہو، اس یقین کے ساتھ مجھے پکارو کہ میں بے سہاروں کا سہارا ہوں، ان کی دعائیں سنتا ہوں تو تم مجھے ہمیشہ اپنی مدد کے لئے اپنے سامنے پاؤ گے۔لیکن یہ ذہن میں ہونا چاہئے کہ اس اضطرار کے ساتھ دعائیں ہو رہی ہیں کہ زبان حال بھی کہہ رہی ہو کہ حیلے سب جاتے رہے حضرت تو اب ہے۔پھر دیکھو اللہ تعالیٰ تمہاری تکلیفیں کس طرح دور کرتا ہے۔ظالم افسروں سے بھی تمہاری نجات ہوگی ، ظالم مولویوں سے بھی تمہاری نجات ہوگی ، ظالم حکومت سے بھی تمہاری نجات ہوگی۔لیکن صرف رونا یا گڑ گڑانا ہی کافی نہیں بلکہ