خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 495
خطبات مسرور 495 $2003 پھر آپ نے فرمایا : وہ دعا جو معرفت کے بعد اور فضل کے ذریعہ سے پیدا ہوتی ہے وہ اور رنگ اور کیفیت رکھتی ہے۔وہ فنا کرنے والی چیز ہے، وہ گداز کرنے والی آگ ہے، وہ رحمت کو کھینچنے والی ایک مقناطیسی کشش ہے، وہ موت ہے پر آخر کوزندہ کرتی ہے، وہ ایک تندرسیل ہے پر آخر کو کشتی بن جاتی ہے، ہر ایک بگڑی ہوئی بات اس سے بن جاتی ہے اور ہر ایک زہر آخر اس سے تریاق ہو جاتا ہے۔مبارک وہ قیدی جو دعا کرتے ہیں، تھکتے نہیں۔کیونکہ ایک دن رہائی پائیں گے۔مبارک وہ اندھے جو دُعاؤں میں سُست نہیں ہوتے کیونکہ ایک دن دیکھنے لگیں گے۔مبارک وہ جو قبروں میں پڑے ہوئے دعاؤں کے ساتھ خدا کی مدد چاہتے ہیں کیونکہ ایک دن قبروں سے باہر نکالے جائیں گے۔مبارک تم جبکہ دُعا کرنے میں کبھی ماندہ نہیں ہوتے اور تمہاری روح دُعا کے لئے پگھلتی اور تمہاری آنکھ آنسو بہاتی اور تمہارے سینہ میں ایک آگ پیدا کر دیتی ہے اور تمہیں تنہائی کا ذوق اُٹھانے کے لئے اندھیری کوٹھڑیوں اور سنسان جنگلوں میں لے جاتی ہے اور تمہیں بے تاب اور دیوانہ اور از خود رفتہ بنا دیتی ہے۔کیونکہ آخر تم پر فضل کیا جاوے گا۔وہ خدا جس کی طرف ہم بلاتے ہیں نہایت کریم ورحیم ، حیا والا ، صادق ، وفادار ، عاجزوں پر رحم کرنے والا ہے۔پس تم بھی وفادار بن جاؤ اور پورے صدق اور وفا سے دُعا کرو کہ وہ تم پر رحم فرمائے گا۔دنیا کے شور و غوغا سے الگ ہو جاؤ۔اور نفسیاتی جھگڑوں کا دین کو رنگ مت دو۔خدا کے لئے ہار اختیار کرلو اور شکست کو قبول کرلوتا بڑی بڑی فتحوں کے تم وارث بن جاؤ۔دُعا کرنے والوں کو خدا معجزہ دکھائے گا۔اور مانگنے والوں کو ایک خارق عادت نعمت دی جائیگی۔دُعا خدا سے آتی ہے اور خدا کی طرف ہی جاتی ہے۔دُعا سے خدا ایسا نزدیک ہو جاتا ہے جیسا کہ تمہاری جان تم سے نزدیک ہے۔دُعا کی پہلی نعمت یہ ہے کہ انسان میں پاک تبدیلی پیدا ہوتی ہے۔پھر اس تبدیلی سے خدا بھی اپنی صفات میں تبدیلی کرتا ہے۔اور اس کے صفات غیر متبدل ہیں مگر تبدیلی یافتہ کے لئے اُس کی ایک الگ تجلّی ہے جس کو دنیا نہیں جانتی گویاوہ اور خدا ہے حالانکہ اور کوئی خدا نہیں۔مگر نئی تجلی نئے رنگ میں اس کو ظاہر کرتی ہے۔تب اس خاص تجلی کے شان میں اس تبدیل یافتہ کے لئے وہ کام کرتا ہے جو دوسروں کے لئے نہیں کرتا۔یہی وہ خوارق ہے۔غرض دُعا وہ اکسیر ہے جو ایک مشتِ خاک کو کیمیا کر دیتی ہے اور وہ ایک پانی ہے جو اندرونی غلاظتوں کو دھو دیتا ہے۔اس دُعا کے ساتھ رُوح پچھلتی ہے اور پانی کی طرح بہہ کر آستانہ