خطبات مسرور (جلد 1۔ 2003ء) — Page 494
$2003 494 خطبات مسرور آپ مزید فرماتے ہیں: یہ بات بھی یادرکھنے کے قابل ہے کہ دعا جو خدا تعالیٰ کے پاک کلام نے مسلمانوں پر فرض کی ہے اس کی فرضیت کے چار سبب ہیں۔ایک یہ کہ تاہر ایک وقت اور ہر ایک حالت میں خدا تعالیٰ کی طرف رجوع ہو کر تو حید پر پختگی حاصل ہو کیونکہ خدا سے مانگنا اس بات کا اقرار کرنا ہے کہ مرادوں کا دینے والا صرف خدا ہے۔دوسرے یہ کہ تا دعا کے قبول ہونے اور مراد کے ملنے پر ایمان قوی ہو۔تیسرے یہ کہ اگر کسی اور رنگ میں عنایت الہی شامل حال ہو تو علم اور حکمت زیادت پکڑے۔( یعنی زیادہ تر توجہ پیدا ہو علم اور حکمت حاصل کرنے کی طرف اور اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرنے کی طرف بھی )۔چوتھے یہ کہ اگر دعا کی قبولیت کا الہام اور رؤیا کے ساتھ وعدہ دیا جائے اور اُسی طرح ظہور میں آوے تو معرفت الہی ترقی کرے اور معرفت سے یقین اور یقین سے محبت اور محبت سے ہر ایک گناہ اور غیر اللہ سے انقطاع حاصل ہو جو حقیقی نجات کا ثمرہ ہے۔ايام الصلح ، روحانی خزائن جلد نمبر ١٤ صفحه ٢٤٢ آپ فرماتے ہیں: میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر اللہ تعالیٰ کے حضور ہماری چلا ہٹ ایسی ہی اضطراری ہو کہ وہ اس کے فضل اور رحمت کو جوش دلاتی ہے اور اس کو کھینچ لاتی ہے۔اور میں اپنے تجربہ کی بنا پر کہتا ہوں کہ خدا کے فضل اور رحمت کو جو قبولیت دعا کی صورت میں آتا ہے میں نے اپنی طرف کھینچتے ہوئے محسوس کیا ہے بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ دیکھا ہے۔آپ فرماتے ہیں: ہر ایک جو اس وقت سنتا ہے یادر کھے کہ تمہارا ہتھیار دعا ہے اس لئے دعا میں لگے رہو۔یہ یادرکھو کہ معصیت اور فسق کو نہ واعظ دور کر سکتے ہیں اور نہ کوئی اور حیلہ۔اس کے لئے ایک ہی راہ ہے وہ دعا ہے۔خدا تعالیٰ نے یہی ہمیں فرمایا ہے۔اس زمانہ میں نیکی کی طرف خیال آنا اور بدی کو چھوڑ نا چھوٹی سی بات نہیں ہے۔یہ انقلاب چاہتی ہے اور یہ انقلاب خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔اور یہ دعاؤں سے ہوگا۔ہماری جماعت کو چاہئے کہ راتوں کو روروکر دعائیں کریں۔اس کا وعدہ ہے اُدْعُوْنِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ۔